پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آٹے کی قیمت بھی آسمان پر پہنچ گئی، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کے ضلع جیکب آباد میں فی کلو آٹا 130 روپے سے بڑھ کر 150 روپے میں فروخت ہونے لگا، جبکہ 40 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگیا ، جیکب آباد میں آٹے کی قیمت میں 20 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد شہری اب ایک کلو آٹا 150 روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں، جو اس سے قبل 130 روپے میں دستیاب تھا۔
صرف یہی نہیں، بلکہ 40 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بھی 4 ہزار روپے سے بڑھ کر 5 ہزار 500 روپے ہوگئی ہے ، یوں بڑے تھیلے کی قیمت میں بھی 1500 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
آٹا مہنگا ہونے سے شہری پریشان
آٹے کی قیمت بڑھنے سے شہریوں کے کچن کا بجٹ شدید متاثر ہوا ہے ، روزمرہ استعمال کی اس بنیادی چیز کی قیمت میں اضافے نے مہنگائی سے پہلے ہی پریشان عوام کی تشویش بڑھا دی ہے۔
شہری روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر سراپا احتجاج ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے عام آدمی کیلئے گھر کا بجٹ چلانا مشکل بنا دیا ہے۔
مہنگائی کا دباؤ، عوام کی مشکلات میں اضافہ
آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہ راست شہریوں کے ماہانہ اخراجات کو متاثر کرتا ہے ، شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہونے سے پہلے ہی گھریلو بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ ان کیلئے ایک اور بڑا بوجھ بن گیا ہے۔