گلابی اور پیلے رنگ کے پاسپورٹ کیوں نہیں ہوتے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

گلابی اور پیلے رنگ کے پاسپورٹ کیوں نہیں ہوتے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

دنیا کے کسی بھی ملک کا پاسپورٹ دیکھیں تو اس کا رنگ عموماً سرخ، نیلا، سبز یا سیاہ ہی نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر دنیا بھر میں پاسپورٹس کے لیے یہی چند رنگ کیوں استعمال کیے جاتے ہیں اور گلابی، پیلے یا دوسرے شوخ رنگ کیوں نظر نہیں آتے؟

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسپورٹ کے رنگ کا انتخاب صرف خوبصورتی یا پسند کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے تاریخی، سیاسی، مذہبی اور عملی وجوہات بھی موجود ہیں۔

نیلا رنگ نئی دنیا کی علامت

دنیا کے کئی ممالک نے پاسپورٹ کے لیے نیلے رنگ کا انتخاب کیا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق نیلا رنگ نئی دنیا کی شناخت سے جوڑا جاتا ہے جبکہ بعض ممالک میں اسے یورپ کی پرانی شناخت سے مختلف رہنے کی علامت بھی سمجھا گیا۔ تاہم ہر ملک میں نیلے رنگ کا انتخاب ایک ہی وجہ سے نہیں کیا گیا۔ مختلف ممالک اپنے تاریخی اور قومی پس منظر کے مطابق پاسپورٹ کا رنگ منتخب کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کا پراسرار آبشار جہاں پانی زمین میں غائب ہوجاتا ہے

سرخ رنگ اور سیاسی تاریخ

سرخ رنگ بھی دنیا میں پاسپورٹس کے لیے عام ہے۔ بعض اوقات اس رنگ کو کمیونسٹ نظام اور سوشلسٹ سیاسی تاریخ سے جوڑا جاتا رہا ہے، اسی لیے کچھ ممالک میں سرخ پاسپورٹ ایک مخصوص سیاسی پس منظر کی علامت بھی سمجھا گیا۔ یورپی ممالک میں بھی سرخ اور اس کے مختلف شیڈز والے پاسپورٹس بڑی تعداد میں استعمال ہوتے ہیں۔

سبز رنگ کا مذہبی تعلق

سبز رنگ کو خاص طور پر کئی مسلم ممالک کے پاسپورٹس سے جوڑا جاتا ہے۔ اسلامی ثقافت میں سبز رنگ کو خاص اہمیت حاصل ہے اور اسے مذہبی وابستگی کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے کئی اسلامی ممالک نے پاسپورٹس کے لیے سبز یا اس کے مختلف گہرے شیڈز اختیار کیے ہیں۔

سیاہ پاسپورٹ سب سے کم عام

سیاہ رنگ ان 4 بنیادی رنگوں میں سب سے کم عام سمجھا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ اپنے قومی تشخص کے اظہار کے لیے سیاہ پاسپورٹ استعمال کرتا ہے۔ کچھ دیگر ممالک میں سیاہ رنگ سفارتی یا مخصوص سرکاری پاسپورٹس کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایک استاد کا تجسس رنگ لے آیا،حیران کن دریافت کر دالی

کیا ممالک کسی بھی رنگ کا پاسپورٹ بنا سکتے ہیں؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر تمام ممالک کو اپنے پاسپورٹ کے لیے انہی چار رنگوں تک محدود رہنے کی پابندی نہیں۔ ہر ملک اپنی ضرورت، قومی شناخت اور ڈیزائن کے مطابق رنگ کا انتخاب کرسکتا ہے۔ اسی لیے نیلے، سبز، سرخ اور سیاہ کے علاوہ ان رنگوں کے مختلف شیڈز بھی پاسپورٹس میں نظر آتے ہیں۔

پھر گلابی یا پیلے پاسپورٹ کیوں نہیں ہوتے؟

پاسپورٹ کے محدود رنگوں کی ایک وجہ اس کی تیاری کا عملی پہلو بھی ہے۔ پاسپورٹ کے سرورق پر عموماً سنہری نشان یا تحریر گرم دھاتی ورق کے ذریعے ثبت کی جاتی ہے۔ یہ سنہری نشان گہرے رنگوں کے پس منظر پر زیادہ واضح اور خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گہرے نیلے، سرخ، سبز یا سیاہ رنگ پاسپورٹ کے لیے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر نیپال کا پاسپورٹ گہرے بھورے رنگ کا ہے اور اس پر سنہری نشان نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یوں پاسپورٹ کا رنگ محض ایک ڈیزائن کا انتخاب نہیں بلکہ اس میں کسی ملک کی تاریخ، سیاسی پس منظر، مذہبی شناخت، قومی تشخص اور پاسپورٹ کی تیاری کے عملی تقاضے بھی شامل ہوسکتے  ہیں۔

editor

Related Articles