سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری، ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ سنا

سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری، ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ سنا

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری کنٹریکٹ ملازمین کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی ملازم کی ریگولرائزیشن یا مستقلی سے قبل کی مسلسل عارضی اور کنٹریکٹ سروس بھی پنشن کے تعین میں شمار ہوگی۔

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس مزمل اختر شبیر اور جسٹس سید احسن رضا کاظمی نے پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل خارج کرتے ہوئے سابقہ عدالتی فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مسلسل کنٹریکٹ سروس انجام دینے والے ملازم کو محض اس بنیاد پر پنشن کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا کہ اس کی ابتدائی تقرری کنٹریکٹ بنیادوں پر ہوئی تھی۔

عدالت کے مطابق ریگولرائزیشن سے پہلے کی مسلسل عارضی سروس پنشن کے حساب میں شامل کی جاسکتی ہے جبکہ سرکاری پالیسی یا تقرری کے ایسے شرائط و ضوابط جو کسی ملازم کے قانونی پنشن حقوق ختم کرنے کا باعث بنیں، انہیں قانون کے مطابق پرکھا جائے گا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سامنے آیا جس میں محکمہ صحت کے ایک متوفی ملازم کی بیوہ نے پنشن اور گریجویٹی کے حصول کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس خانیوال نے ملازم کی سروس کو دس سال سے کم قرار دیتے ہوئے پنشن دینے پر اعتراض کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول پر سبسڈی لینے والوں کو حکومت نے ایک اور بڑا ریلیف دے دیا۔

عدالت نے متعلقہ محکمے کا یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے بیوہ کو پنشن اور گریجویٹی جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کے سامنے معاملہ یہ تھا کہ اگر ملازم کی مسلسل کنٹریکٹ سروس کو بھی شمار کیا جائے تو اس کی پنشن کیلئے مطلوبہ سروس کا حق متاثر نہیں ہوتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مسلسل کنٹریکٹ سروس کو نظرانداز کرکے ملازم کو پنشن سے محروم نہیں کیا جاسکتا خصوصاً جب بعد میں اسی ملازم کی سروس کو ریگولرائز یا مستقل کیا گیا ہو عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے کنٹریکٹ سروس کو پنشن میں شمار نہ کرنے کے مؤقف کو بھی تسلیم نہیں کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے طے کردہ قانونی اصول کا حوالہ بھی دیا کہ کنٹریکٹ ملازمت مخصوص حالات میں عارضی سروس کے زمرے میں آسکتی ہے چنانچہ کسی ملازم کی سروس کی نوعیت اور تسلسل کو دیکھے بغیر صرف کنٹریکٹ کا لیبل لگا کر پنشن کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پنجاب کے مختلف سرکاری محکموں میں ایسے ملازمین موجود رہے ہیں جنہوں نے کئی سال کنٹریکٹ بنیادوں پر خدمات انجام دینے کے بعد ریگولرائزیشن یا مستقلی حاصل کی تاہم اس فیصلے کا اطلاق ہر کنٹریکٹ ملازم پر خودکار طور پر نہیں ہوگا؛ سروس کا تسلسل، بعد کی ریگولرائزیشن اور متعلقہ پنشن قوانین و قواعد اہم ہوں گے۔

فیصلے سے بالخصوص ایسے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کیلئے قانونی راستہ مضبوط ہوتا ہے جن کی مسلسل کنٹریکٹ سروس کو پنشن کے تعین میں شامل نہ کیا گیا ہو۔ تاہم ہر کیس کے حقائق اور متعلقہ سروس رولز کے مطابق فیصلہ مختلف ہوسکتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے بعد سرکاری اداروں میں کنٹریکٹ سے ریگولر ہونے والے ملازمین کی پنشن کے معاملات دوبارہ اہمیت اختیار کرگئے ہیں جبکہ متعلقہ محکموں اور اکاؤنٹس دفاتر کیلئے بھی یہ فیصلہ سابقہ سروس کے تعین اور پنشن کیسز کی جانچ کے حوالے سے اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles