امریکا نے ’خلا ‘ میں پہلا جدید ترین ہتھیار تعینات کر دیا، پوری دُنیا نشانے پر، 12 کھرب ڈالر لاگت

امریکا نے ’خلا ‘ میں پہلا جدید ترین ہتھیار تعینات کر دیا، پوری دُنیا نشانے پر، 12 کھرب ڈالر لاگت

امریکا نے تاریخ میں پہلی بار زمین کے مدار میں اپنا پہلا جارحانہ خلائی ہتھیار تعینات کرنے کا باضابطہ اعتراف کر لیا ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کے نئے فضائی و میزائل دفاعی نظام ’گولڈن ڈوم‘ کی لاگت کا ہوشربا تخمینہ 12 کھرب ڈالر لگایا گیا ہے۔

امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے ایک کانفرنس کے دوران اس اہم پیش رفت کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام بدلتے ہوئے عالمی خطرات سے نمٹنے اور امریکی افواج کو دشمنوں کی جارحیت سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر تھا۔ تاہم، سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہوں نے اس نئے ہتھیار کی حتمی صلاحیت اور تعیناتی کے وقت کو خفیہ رکھا۔

روس اور چین کا خطرہ اور ’سپیس فورس‘ کا کردار

امریکی فوجی حکام کا ماننا ہے کہ روس اور چین مستقبل کے تنازعات کے لیے امریکی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیتیں تیزی سے حاصل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود امریکی ہتھیاروں سے پاکستان میں دہشتگردی کر رہی ہے، امریکی جریدہ

2019 میں قائم ہونے والی امریکی ’سپیس فورس‘ اب محض دفاع تک محدود نہیں رہی۔ ترجمان کے مطابق یہ فورس اب بوقتِ ضرورت مخالفین کے مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنے اور ان کی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔

ٹرمپ کا 12 کھرب ڈالر کا ’گولڈن ڈوم‘ منصوبہ

خلائی تسلط کی اسی دوڑ کا ایک اہم حصہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام ہے۔ کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی رپورٹ کے مطابق، اس نظام کی تعمیر اور 20 سالہ آپریشنز پر 12 کھرب ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہوگی، جو وائٹ ہاؤس کے ابتدائی تخمینے (175 ارب ڈالر) سے کئی گنا زیادہ ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلی نے اس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے محض دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے ایک تحفہ قرار دیا ہے جس کی قیمت امریکی عوام ادا کریں گے۔

واضح رہے کہ 1967 کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت خلا میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بھیجنے پر سخت پابندی عائد ہے۔

تاہم حریف ممالک کے مواصلاتی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے والی ٹیکنالوجی اس معاہدے کی حدود سے باہر سمجھی جاتی ہے۔ اس کی واضح مثال 2022 میں یوکرین جنگ کے دوران سامنے آئی جب روسی سیٹلائٹس نے کم از کم ایک درجن یورپی سیٹلائٹس کے مواصلاتی نظام میں مداخلت کی۔

اس کے علاوہ 2024 میں روس پر ایک ایسا ہی جارحانہ سیٹلائٹ مدار میں بھیجنے کا امریکی الزام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی الٹی میٹم: ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے تو آپریشنز ختم کر دیں گے، ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ

دفاعی اور اسٹریٹیجک امور کے ماہرین کے مطابق خلا اب روایتی میدانِ جنگ کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔ امریکا کی جانب سے مدار میں ہتھیار کی تعیناتی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مستقبل کی سپر پاورز کی جنگیں زمین کے بجائے خلا میں لڑی جائیں گی۔

تاہم ماہرین اور ’سی بی او‘ رپورٹ اس بات پر متفق ہیں کہ 12 کھرب ڈالر کا انتہائی مہنگا ’گولڈن ڈوم‘ نظام بھی امریکا کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔

اگر روس یا چین کی جانب سے کوئی بڑا اور مربوط بیلسٹک یا کروز میزائل حملہ ہوتا ہے، تو یہ دفاعی شیلڈ بھی مغلوب ہو سکتی ہے، جس سے اس ہوشربا سرمایہ کاری کی افادیت پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔

Related Articles