ایمرجنسی میں نیٹ ورک کے بغیر بھی مدد، آئی فون صارفین کیلئے بڑی سہولت

ایمرجنسی میں نیٹ ورک کے بغیر بھی مدد، آئی فون صارفین کیلئے بڑی سہولت

ایپل نے پرانے آئی فون ماڈلز استعمال کرنے والے صارفین کیلئے مفت سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کی آزمائشی سہولت مزید 12 ماہ تک جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔

ٹیکنالوجی رپورٹس کے مطابق اس توسیع کا ذکر ایپل کے نئے آئی فون 18 پرو سے متعلق دستاویزات میں سامنے آیا ہے۔ اس سہولت کا فائدہ آئی فون 14 سے آئی فون 16 سیریز تک کے ان معاون ماڈلز کے صارفین اٹھا سکیں گے جن میں سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی دستیاب ہے۔

ایپل کے مطابق جن صارفین نے اپنے معاون آئی فونز 9 ستمبر 2026 سے پہلے فعال کیے تھے، وہ توسیع شدہ آزمائشی مدت کے دوران بغیر کسی اضافی سبسکرپشن فیس کے سیٹلائٹ سے متعلق ہنگامی سہولیات استعمال کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل کروم کا نیا زبردست فیچر، ’پی ڈی ایف‘ فائلز کا براہِ راست ترجمہ

اس سروس کے ذریعے ایسے مقامات پر بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے جہاں موبائل نیٹ ورک یا وائی فائی دستیاب نہ ہو۔ صارفین ایمرجنسی ایس او ایس کے ذریعے مدد طلب کرنے کے علاوہ سیٹلائٹ کے ذریعے پیغامات بھیج سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فائنڈ مائی کے ذریعے اپنی لوکیشن شیئر کرنے یا ٹریک کرنے اور سڑک پر گاڑی خراب ہونے کی صورت میں کار سروس سے مدد حاصل کرنے کی سہولت بھی شامل ہے۔

ایپل نے پہلی مرتبہ 2022 میں آئی فون 14 سیریز کے ساتھ سیٹلائٹ کے ذریعے ایمرجنسی ایس او ایس کی سہولت متعارف کرائی تھی۔ بعد میں کمپنی نے نئے آئی فون ماڈلز میں بھی اس ٹیکنالوجی کو شامل کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مفت سیٹلائٹ سروس کی آزمائشی مدت میں یہ آئی فون 14 صارفین کیلئے تیسری، آئی فون 15 صارفین کیلئے دوسری اور آئی فون 16 صارفین کیلئے پہلی توسیع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سائنس فکشن سے حقیقت تک، اے آئی کیلئے کِل سوئچ کا منصوبہ سامنے آگیا

اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپل ایسے صارفین کو بھی ہنگامی حالات میں سیٹلائٹ رابطے کی سہولت فراہم کرنا چاہتا ہے جو کمپنی کے نسبتاً پرانے معاون آئی فون ماڈلز استعمال کررہے ہیں۔ تاہم ایک اہم سوال اب بھی موجود ہے۔ ایپل نے یہ واضح نہیں کیا کہ مفت آزمائشی مدت ختم ہونے کے بعد صارفین کو سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی استعمال کرنے کیلئے کتنی فیس ادا کرنا ہوگی۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر اس سہولت کو فی الحال محدود مدت کی مفت آزمائشی سروس قرار دیا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں اس کے باقاعدہ نرخوں کا اعلان ابھی باقی ہے۔

editor

Related Articles