امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی نئی رپورٹ نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کو پہنچنے والے عسکری اور معاشی نقصانات کی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے پہلے چار ماہ میں امریکا کی مجموعی لاگت تقریباً 33 ارب 40 کروڑ ڈالر رہی جبکہ اربوں ڈالر مالیت کا جنگی سازوسامان اور گولہ بارود بھی استعمال یا ضائع ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 22 ارب 30 کروڑ ڈالر صرف استعمال کیے گئے گولہ بارود پر خرچ ہوئے جبکہ تقریباً 3 ارب 70 کروڑ ڈالر سازوسامان کے نقصانات اور مزید 7 ارب 40 کروڑ ڈالر دیگر اخراجات کی مد میں خرچ ہوئے تاہم اس تخمینے میں بعض بڑے بعد از جنگ اخراجات، جن میں تباہ یا متاثرہ طیاروں کی مکمل مرمت اور اہم ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بھرنے کی لاگت شامل ہے پوری طرح شامل نہیں۔
امریکی انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق جنگ نے امریکی فوج کے اسلحہ اور سپلائی نظام پر بھی نمایاں دباؤ ڈالا۔ پینٹاگون کو اہم جنگی گولہ بارود کے ذخائر میں کمی اور سپلائی چین سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد امریکی محکمہ دفاع نے ہتھیاروں کی خریداری اور پیداوار کا عمل تیز کرنے اور اہم جنگی سازوسامان کے ذخائر بڑھانے کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ کے دوران 20 ہزار سے زائد امریکی فوجی اور سفارتی اہلکاروں کو خطے سے منتقل کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ یورپ میں موجود امریکی اڈوں سے مشرق وسطیٰ میں جنگی معاونت اور دیگر آپریشنز کیلئے تقریباً 5 ہزار پروازیں کی گئیں جس سے امریکی فوجی لاجسٹکس اور فضائی آپریشنز پر پڑنے والے غیر معمولی دباؤ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے بحرین میں امریکی بحریہ کے اہم لاجسٹکس مرکز کو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ اس صورتحال کے باعث امریکی سینٹرل کمانڈ کو بعض سپلائی روٹس کو زیادہ دور دراز مقامات کی طرف منتقل کرنا پڑا۔
فضائی اثاثوں کے حوالے سے بھی رپورٹ میں اہم نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنگ کے دوران 30 تک MQ-9 ریپر ڈرونز تباہ یا ضائع ہوئے۔ اس کے علاوہ امریکی فضائیہ کے متعدد جنگی اور معاون طیارے بھی تباہ یا متاثر ہوئے، جن میں F-15E، F-35A، A-10 اور KC-135 ٹینکر طیارے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سفارتی اور سرکاری تنصیبات بھی ایرانی حملوں سے متاثر ہوئیں۔ عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی محکمہ خارجہ کی تنصیبات کو 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔ اس میں سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات اور بعض تعمیراتی منصوبوں میں تاخیر سے پیدا ہونے والے مالی اثرات بھی شامل ہیں۔
ایران جنگ کے دوران امریکی فوجیوں اور اہلکاروں کی منتقلی بھی ایک بڑا لاجسٹک چیلنج بنی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خطے سے بڑی تعداد میں اہلکاروں کی منتقلی اور محفوظ مقامات تک پہنچانے کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کرنا پڑے۔ اس دوران بعض زخمی امریکی اہلکاروں کو فضائی منتقلی کی محدود گنجائش کے باعث مقامی سطح پر طبی امداد بھی فراہم کرنا پڑی۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جنگ کے اصل مالی اثرات موجودہ تخمینے سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں، کیونکہ 33 ارب 40 کروڑ ڈالر کے تخمینے میں تباہ شدہ یا متاثرہ فوجی طیاروں کی مکمل تبدیلی مرمت اور اہم ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ مکمل کرنے کی مستقبل کی لاگت شامل نہیں اس کا مطلب ہے کہ جنگ کے مکمل مالی اثرات کا حجم آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع اب جنگ کے تجربات کی روشنی میں ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی، خریداری کے طریقہ کار کو مختصر کرنے اور اہم جنگی سازوسامان کے ذخائر میں اضافے پر توجہ دے رہا ہے۔ پینٹاگون کیلئے یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ طویل جنگ کی صورت میں بڑے پیمانے پر جدید میزائلوں ڈرون شکن نظام، فضائی دفاعی ہتھیاروں اور دیگر جنگی سامان کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
کانگریس کی ہدایت پر تیار کی گئی یہ رپورٹ ایران جنگ کے ابتدائی چار ماہ کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں نقصانات اخراجات اور سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے رپورٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکا کیلئے صرف میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ اسلحہ کے ذخائر، فوجی لاجسٹکس، علاقائی اڈوں اور قومی خزانے پر بھی بھاری بوجھ ڈالا ہے