وفاقی حکومت نے مقامی طور پر تیار ہونے والی 2000 سی سی تک ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر عائد سیلز ٹیکس میں بڑی کمی کردی، جس کے بعد ان گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد ہوگئی ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے 8 مارچ 2023 کو جاری کردہ ایس آر او 297 اور 8 مارچ 2024 کو جاری ایس آر او 370 میں ترمیم کرتے ہوئے ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے نئی شق شامل کردی ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت مقامی طور پر تیار یا اسمبل ہونے والی ایسی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں جن کی انجن گنجائش 2000 سی سی تک ہے، سابقہ 25 فیصد سیلز ٹیکس کے دائرے سے نکال دی گئی ہیں اور ان پر عمومی 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔
نئی شرح کا اطلاق 13 ستمبر 2026 سے ہوگا۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ نے ایس آر او 1525(I)/2026 جاری کیا ہے، جس کے ذریعے پہلے سے موجود سیلز ٹیکس نوٹیفکیشن میں ترمیم کی گئی ہے۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں مالی سال کے آغاز پر ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے پہلے دستیاب بعض ٹیکس رعایتیں ختم ہونے کے بعد مقامی ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔ سابقہ رعایتی نظام میں بعض ہائبرڈ گاڑیوں پر اس سے کہیں کم شرحیں لاگو تھیں، تاہم یہ رعایتیں 30 جون 2026 کو ختم ہوگئی تھیں۔
نئی ترمیم کے نتیجے میں 2000 سی سی تک کی اہل مقامی ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں 7 فیصد پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔ اس سے مقامی طور پر تیار ہونے والی متعلقہ ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں پر ٹیکس کا اثر کم ہونے کی توقع ہے، تاہم گاڑیوں کی حتمی قیمت میں کمی کا انحصار کمپنیوں کی جانب سے اس ٹیکس ریلیف کو صارفین تک منتقل کرنے پر ہوگا۔
کاروباری و آٹو سیکٹر کے لیے بھی اس فیصلے کو اہم قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ مقامی ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی سے ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی مقامی پیداوار اور فروخت کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام آٹو سیکٹر کے لیے نئی پالیسی سمت اور مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جارہا ہے، جبکہ صارفین کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ مقامی کمپنیوں کی جانب سے نئی ٹیکس شرح کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں کتنی کمی کی جاتی ہے۔