خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی نےانسپکٹرجنرل آف پولیس، چیف کیپٹل سٹی پولیس، ریجنل پولیس آفیسرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز کو باالترتیب وزیراعلی، چیف سیکرٹری، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کرنے کے قانونی مسودے کو حتمی شکل دے دی۔
ذرائع خیبرپختونخوا کے اہم ترین بیوروکریٹ نے اس قانونی مسودے میں مرکزی کردار ادا کیا یے گریڈ 21 کے اس بیوروکریٹ نے ماضی میں جب وہ وزیراعلی سیکرٹریٹ میں اہم عہدے پر تعینات تھے بھی پولیس ایکٹ 2017 کی شدید مخالفت کرتے ہوئے بیوروکریسی کا ایک گروپ تشکیل دیا تھا
آئی جی پی کو وزیراعلی اور دیگر پولیس افسران کو بیوروکریسی کے ماتحت کرنے کے اس قانونی مسودے کو پی ٹی آئی حکومت کا منصوبہ قرار دیا ہے مگر درحقیقت آئی جی کو وزیراعلی اور سی سی پی او، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو بیوروکریسی کے ماتحت کرنے کا یہ منصوبہ بیوروکریٹ ہی کا یے
قانونی مسودے کے تحت ابتدائی مرحلہ میں آئی جی کو تبدیل کرنے کا اختیار وزیراعلی کو دیا گیا یے جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں پشاور کے سی سی پی او کو چیف سیکرٹری، ریجنل پولیس آفیسرز کو کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز کو ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تمام مراحل ایک ہی وقت میں کرنے پر پولیس افسران اور فورس کی جانب سے شدید ردعمل آنے کے پیش نظر اس کو مرحلہ وار رکھا گیا۔
2016 میں جب پولیس ایکٹ پر کام شروع ہوا اور پولیس ایکٹ 2017 کا مسودہ تیار ہو رہا تھا تو اس وقت کے آئی جی ناصر خان درانی نے عمران خان اور پرویز خٹک کی ہدایت پر پولیس کے اختیارات میں اضافہ کیا
اس وقت ایک بیوروکریٹ جو وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں اہم ترین عہدے پر تعینات تھے اپنے کچھ دیگر سینئر بیوروکریٹس کیساتھ مل کر پولیس ایکٹ میں پولیس افسران کو اختیارات دینے خلاف متحرک ہوئے
پرویز خٹک کو پولیس کو بے پناہ اختیارات دینے کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ محکمہ قانون کے ذریعے سازشیں بھی کیں کہ پولیس ایکٹ میں اعتراضات نکال کر واپس کیا جائے
اس وقت وزیراعلی ہاوس سے جو بیوروکریٹ بیوروکریسی کے اس گروپ کو خبریں لیک کرتا رہا اس نے ایک بار پھر باریک واردات ڈالتے ہوئے اس بار بھی آئی جی، سی سی پی او، آر پی او اور ڈی پی اوز کو بیوروکریسی کے ماتحت کرنے کا جو منصوبہ ترتیب دیا تھا وہ بے نقاب ہوگیا
اس بار وہ بیوروکریٹ بیوروکریسی کی بجائے براہ راست وزیراعلی اور پوری خیبر پختونخوا حکومت کو بیوقوف بنا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے جہاں ابتدائی مرحلہ میں آئی جی تعیناتی اور ہٹانے کا اختیار وزیراعلی کو دیا جارہا ہے
دوسرے مرحلے میں سی سی پی او کو چیف سیکرٹری کے ماتحت کیا جائے
تیسرے مرحلے میں آر پی اوز کو کمشنرز اور ڈی پی اوز کو ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت کیا جائے گا
اور یوں پوری پولیس بیوروکریسی کی کنٹرول میں آجائے گی۔ پشاور اور اضلاع میں آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو عہدوں سے ہٹانے تعیناتیوں، تبادلوں یا کسی پولیس آفیسر کے خلاف انکوائری کا براہ راست اختیار بھی بیوروکریسی کو دیا جائے گا جبکہ انتظامی عہدوں کیساتھ ساتھ بیوروکریسی کو پولیس اختیارات اور مراعات بھی دیئے جائیں گے۔