نئی دہلی میں حالیہ برکس اجلاس کے بعد جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا علالت کے باعث عوامی مصروفیات سے دور ہو گئے ہیں، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ کے حوالے سے بھی شدید بیماری کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔
جنوبی افریقہ کے ایوانِ صدر نے بدھ کو ایک مختصر بیان میں تصدیق کی ہے کہ صدر سیرل رامافوسا کی طبیعت ناساز ہے اور وہ تاحکمِ ثانی کسی بھی عوامی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔
بھارت میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد پیر کو وطن واپس لوٹنے والے صدر کو ان کی میڈیکل ٹیم نے مکمل آرام اور صحت یابی پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔
ایوانِ صدر کے مطابق یہ واضح نہیں کیا گیا کہ صدر کتنے عرصے تک رخصت پر رہیں گے اور نہ ہی کسی کو قائم مقام صدر مقرر کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے برکس ممالک سے امریکی و اسرائیلی جنگی جارحیت کی مذمت کا مطالبہ کردیا
تاہم صدارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں ممکن ہو، صدر نے متعلقہ وزرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ طے شدہ عوامی مصروفیات میں ان کی نمائندگی کریں۔
نائب صدر کی مسلسل غیر حاضری اور حکومتی چیلنجز
صدر رامافوسا کی بیماری کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی افریقہ کے نائب صدر پال ماشاتائل پہلے ہی کئی ہفتوں سے علیل ہیں۔ ایک معمولی طبی طریقہ کار سے گزرنے کے بعد وہ اس وقت گھر پر روبہ صحت ہیں۔
اس ہفتے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں ماشاتائل نے عوام کو آگاہ کیا کہ ان کی صحت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے اور وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ طاقت پکڑ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈاکٹروں کے مشورے پر میں اس وقت تک آرام جاری رکھوں گا جب تک مجھے مزید کوئی ہدایت نہیں ملتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے دفتر کی قابل ٹیم، حکومت، کاروباری برادری اور دیگر شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر تفویض کردہ ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔
نائب صدر نے اپنے خاندان، میڈیکل ٹیم، دفتری عملے، حکومتی اور اے این سی کے ساتھیوں سمیت صدر رامافوسا اور ان تمام شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ کی دعائیں اور حوصلہ افزائی میرے لیے طاقت کا ذریعہ رہے ہیں۔’
چینی صدر کے حوالے سے تشویشناک دعوے
یہ صورتحال اس وقت مزید پراسرار ہو گئی جب سوشل میڈیا پر برکس اجلاس میں شریک رہنماؤں، بالخصوص چینی صدر شی جن پنگ کی صحت کے حوالے سے سنگین قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔
چائنا ڈیموکریسی پارٹی کے چیئرمین وانجن ژی کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ پوسٹ میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا کہ چینی صدر شی جن پنگ برکس اجلاس کے دوران بے ہوش ہو گئے تھے۔
دعوے کے مطابق انہیں مبینہ طور پر فالج کا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں فوری علاج کے لیے واپس بیجنگ روانہ کر دیا گیا۔ اگرچہ ان خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن اس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
نئی دہلی میں برکس ممالک کا توسیعی سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہوا تھا، جس میں دنیا بھر سے اہم رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
اس اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ، جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا اور دیگر اہم عالمی شخصیات موجود تھیں۔ تاہم، اجلاس کے فوراً بعد متعدد عالمی رہنماؤں کے ایک ساتھ بیمار پڑنے کی خبروں نے سفارتی حلقوں میں غیر معمولی چہ میگوئیوں کو جنم دیا ہے۔
ایک اعلیٰ سطح عالمی فورم کے فوراً بعد دو اہم ممالک کے سربراہان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی یہ صورتحال محض اتفاق سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
جنوبی افریقہ کے تناظر میں صدر اور نائب صدر دونوں کا ایک ہی وقت میں علیل ہونا ملک کے لیے ایک سنگین انتظامی خلا پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست کو اہم معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔
دوسری جانب چینی صدر کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہیں اگر ذرا سی بھی حقیقت پر مبنی ہیں، تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں اور جغرافیائی سیاست پر براہ راست مرتب ہوں گے۔
نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس کے دوران ممکنہ طور پر کسی وائرل انفیکشن یا غیر معمولی ماحولیاتی دباؤ نے رہنماؤں کی صحت کو متاثر کیا ہے۔
تاہم جب تک متعلقہ حکومتیں مکمل شفافیت کے ساتھ طبی رپورٹس سامنے نہیں لاتیں، تب تک عالمی سطح پر بے یقینی اور قیاس آرائیوں کا بازار گرم رہے گا۔