سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے ایک نیا ہائبرڈ سولر واٹر ہیٹر متعارف کرایا ہے جو شمسی توانائی اور بجلی کو یکجا کرتا ہے، تاکہ سورج کی روشنی کم ہونے پر بھی گرم پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
اس نئے نظام کو ایس این جی پی ایل نے اپنے آفیشل ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کے ذریعے متعارف کرایا، جس کا عنوان “اب پانی کو اسمارٹ طریقے سے گرم کریں رکھا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق، یہ ہائبرڈ واٹر ہیٹر بنیادی طور پر شمسی توانائی کا استعمال کرتا ہے، جبکہ اس میں موجود الیکٹرک بیک اپ کو اس وقت استعمال کیا جا سکتا ہے جب سورج کی روشنی ناکافی ہو یا موسمی حالات شمسی حرارت (سولر ہیٹنگ) پر اثر انداز ہوں۔
یہ نظام وائی فائی کی سہولت سے بھی لیس ہے، جس کی بدولت صارفین دور بیٹھے ہی درجہ حرارت اور ہیٹنگ کے عمل کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
نئے واٹر ہیٹر کی گنجائش
سوئی ناردرن کمپنی کے مطابق اس ہائبرڈ سولر واٹر ہیٹر کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش (اسٹوریج کیپیسٹی) 200 لیٹر ہے اور یہ پانی کو 24 گھنٹے تک گرم رکھ سکتا ہے ، اس نظام کو گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ تجارتی مراکز، بشمول ہوٹلوں، ریستورانوں، ہسپتالوں اور لانڈریوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں نئے واٹر ہیٹر کی قیمت
سوئی ناردرن کمپنی نے اس ہائبرڈ سولر واٹر ہیٹر کی قیمت 128,893 روپے مقرر کی ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ صارفین کو مفت ترسیل (شپنگ) اور تنصیب (انسٹالیشن) کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ صارفین اس نظام کو 12 ماہ کے بلا سود اقساط کے منصوبے کے تحت بھی خرید سکتے ہیں۔
واٹر ہیٹر کیسے منگوائیں
جو صارفین بجلی کی بچت کرنے والے اس نئے واٹر ہیٹر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا آرڈر دینا چاہتے ہیں، وہ سوئی ناردرن گیس کمپنی سے 1199 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
یہ ہائبرڈ نظام صارفین کو پانی گرم کرنے کے لیے شمسی توانائی استعمال کرنے کا اختیار دیتا ہے، جبکہ شمسی توانائی ناکافی ہونے کی صورت میں بجلی کو بیک اپ کے طور پر استعمال کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ
دوسری جانب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 52 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا ہے، نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ملک میں بجلی کی قیمت میں 52 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافے سے صارفین پر 12.67 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، صارفین کو ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں اضافی ادائیگی کرنی ہوگی۔