امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف 7 ماہ سے جاری جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب ایران نے کسی بھی قسم کے فوجی جوہری پروگرام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے امریکی و اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والی تیل تنصیبات کی جلد بحالی کا اعلان کیا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف جنگ اپنے 7 ویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور بظاہر اس کا کوئی فوری اختتام نظر نہیں آ رہا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر کی خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے۔
ایکسیوس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگلے ہفتے ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات کی تمام تر توجہ جنگ کے بعد کی امریکی حکمتِ عملی اور خطے کے مستقبل پر مرکوز ہوگی۔
ایران کا کوئی فوجی جوہری پروگرام نہیں
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ان کے ملک کا کوئی ’فوجی‘ جوہری پروگرام نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حقیقت سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسرائیلی سرپرست اس من گھڑت ’بڑے جھوٹ‘ کو کتنی بار دہراتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک تفصیلی بیان میں انہوں نے جنگ اور جوہری پروگرام کے حوالے سے جرمن چانسلر کے بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’جان بوجھ کر مسخ کیا گیا بیانیہ‘ قرار دیا۔
جرمنی پر تنقید اور مزاحمتی قوتوں کی حمایت
ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ ’یو ایس رائیل‘ (امریکا اور اسرائیل) تھا جس نے اس جارحانہ جنگ کا آغاز کیا، نہ کہ ایران نے، لیکن جرمنی اس ظلم کی مذمت کرنے کے لیے درکار کم ترین اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔
انہوں نے برلن کی جانب سے مزاحمتی گروپوں کو ’پراکسیز‘ قرار دینے کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزاد فریق ہیں جن کے اپنے واضح مقاصد اور حساب کتاب ہیں۔
وہ قبضے، جارحیت اور غلامی کے خلاف اپنے حقِ خودارادیت، آزادی اور وقار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ ہمارے خطے کو جرمنی کے احساسِ جرم یا ظالموں کو خوش کرنے کی عادت کی قیمت نہیں چکانی چاہیے۔
تیل تنصیبات کی تعمیرِ نو اور بحالی کا کام
جنگ کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کے دوران تباہ ہونے والی تیل کی صنعت کی تنصیبات کی تعمیرِ نو کا کام انتہائی تیزی سے جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضائع ہونے والی پیداواری صلاحیت کا ایک بڑا حصہ رواں کیلنڈر سال کے اختتام، یعنی مارچ کے اواخر تک واپس بحال ہونے کی امید ہے۔
محسن پاک نژاد نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں مزید واضح کیا کہ باقی ماندہ تباہ شدہ صلاحیت اگلے ایرانی سال کی پہلی ششماہی کے دوران دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق تہران میں نشانہ بننے والی 4 گیس ریفائنریز اور مائع ایندھن کو ذخیرہ کرنے اور لوڈ کرنے والی تنصیبات پر تعمیرِ نو کا کام تسلی بخش رفتار سے جاری ہے۔
اس بحالی کے عمل میں کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے اور کام کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اس کی ہفتہ وار بنیادوں پر نگرانی کی جا رہی ہے۔
ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان یہ کشیدگی گزشتہ 7 ماہ سے ایک باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس میں ایران کی اہم تنصیبات، خاص طور پر تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سفارتی سطح پر مغربی ممالک، بالخصوص جرمنی، اس تنازعے میں اسرائیل کے حامی نظر آتے ہیں، جس پر تہران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔ دریں اثنا، مشرقِ وسطیٰ میں سرگرم مختلف مسلح گروہوں کے کردار پر بھی مغرب اور ایران کے درمیان گہرا اختلاف پایا جاتا ہے۔
موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی امید اور خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ’جنگ کے بعد کی حکمتِ عملی‘ پر مشاورت اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب فوجی محاذ سے نکل کر سفارتی اور تزویراتی محاذ پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے انتہائی دباؤ کے باوجود اپنا مؤقف نرم نہیں کیا ہے۔ فوجی جوہری پروگرام کی واضح تردید اور خطے کی مزاحمتی قوتوں کی کھلی حمایت ظاہر کرتی ہے کہ تہران سیاسی محاذ پر پسپائی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔
اس کے ساتھ ہی، تیل اور گیس کی تباہ شدہ تنصیبات کی تیز ترین بحالی ایران کی معاشی لچک کو ظاہر کرتی ہے، جو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ایران اندرونی طور پر خود کو مستحکم رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ میں ہونے والی آئندہ ملاقاتیں اس خطے کے مستقبل کا نیا نقشہ ترتیب دینے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گی۔