ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی اپنے مارجن میں اضافے پر فوری عملدرآمد اور اربوں روپے کے زیر التوا پرائس ڈفرینشل کلیمز کی ادائیگی کا مطالبہ کردیا ہے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے اس سلسلے میں چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو خط لکھ کر معاملہ فوری حل کرنے کی درخواست کی ہے۔
او سی اے سی کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تقریباً 66.7 ارب روپے کے پرائس ڈفرینشل کلیمز زیر التوا ہیں، جن میں سے بڑی تعداد مارچ 2026 سے واجب الادا ہے۔ کونسل نے کہا ہے کہ زیر التوا رقم تقریباً پانچ درآمدی پٹرول کارگوز کی مالیت کے برابر ہے، جس کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی لیکویڈیٹی پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
او سی اے سی نے اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر التوا کلیمز کی تصدیق اور آڈٹ کا عمل جلد مکمل کرکے پہلے سے تصدیق شدہ اور منظور شدہ واجبات فوری جاری کیے جائیں۔ کونسل کے مطابق پٹرول کی درآمد سے متعلق بعض منظور شدہ پریمیم ڈفرینشل کلیمز بھی ادائیگی کے منتظر ہیں۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے مارجن میں اضافے پر بھی فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ او سی اے سی کا کہنا ہے کہ او ایم سی مارجن میں آخری مرتبہ ستمبر 2023 میں نظرثانی کی گئی تھی اور اس کے بعد آپریٹنگ، فنانسنگ، ٹیکنالوجی، ریگولیٹری اور دیگر اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔
او سی اے سی کے مطابق او ایم سی مارجن میں 1.22 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی جاچکی ہے تاہم اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن اور عملی نفاذ ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے اگست 2026 میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیلرز کے مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی تھی، جس کا اطلاق یکم ستمبر سے ہونا تھا۔
کونسل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں صرف مصنوعات کی فروخت تک محدود نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی خریداری، درآمدی فنانسنگ، ذخیرہ کاری، نقل و حمل اور ملک بھر میں دستیابی یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی ادا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ریگولیٹری اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق تقاضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
او سی اے سی کے مطابق مارچ 2026 سے خطے کی کشیدہ صورتحال اور جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی درآمد، لاجسٹکس اور سپلائی چین کے حوالے سے اضافی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ مالی دباؤ کے باعث صنعت کے لیے مسلسل اور بلا تعطل سپلائی برقرار رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی کسی خرابی کی ذمہ داری آئل انڈسٹری پر عائد نہیں ہونی چاہیے۔
او سی اے سی نے اوگرا کے چیئرمین سے ملاقات اور معاملے کے فوری حل کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیر التوا کلیمز کی ادائیگی اور او ایم سی مارجن میں منظور شدہ اضافے کے نفاذ سے صنعت کو درپیش لیکویڈیٹی کے دباؤ میں کمی لائی جاسکتی ہے۔
کونسل نے مارجن میں اضافے کے لیے ایک مستقل اور قابلِ پیش گوئی طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا ہے تاکہ مستقبل میں آپریٹنگ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے ساتھ مارجن پر بروقت نظرثانی ہوسکے۔