پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال کو مزید منظم کرنے کے لیے حکومت نے قوانین سخت کرنے کی تجاویز پر غور شروع کردیا ہے۔
وزارت داخلہ نے اس معاملے پر متعلقہ اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس مشاورت کا بنیادی مقصد بچوں کے آن لائن استحصال اور نامناسب مواد سے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنا ہے۔
بچوں کے لیے سوشل میڈیا کی عمر کی حد تجویز
میڈیا ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے تحفظ اور آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام پر بھی غور کیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی بھی رواں ماہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی سفارش کرچکی ہے۔
حکام سوشل میڈیا پر فیملی ولاگنگ کے نام پر سامنے آنے والے نامناسب مواد کو روکنے کے لیے بھی مختلف تجاویز کا جائزہ لیں گے۔ وزارت داخلہ کی زیر نگرانی ہونے والی مشاورت میں بچوں کے استحصال اور نامناسب مواد سے متعلق کیسز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
بعض پلیٹ فارمز پر پابندی کی تجویز بھی زیر غور
میڈیا ذرائع کے مطابق بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی یا ان کے استعمال کو محدود کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ حکام اس حوالے سے آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک میں نافذ یا زیر غور سوشل میڈیا پالیسیوں کا جائزہ بھی لیں گے تاکہ پاکستان کے لیے ممکنہ اقدامات کا تعین کیا جاسکے۔
اہم ادارے مشاورت میں شریک ہوں گے
وزارت داخلہ کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، وفاقی پولیس اور صوبائی پولیس حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں بچوں کے استحصال، نامناسب آن لائن مواد اور سوشل میڈیا سے متعلق دیگر کیسز کی صورتحال بھی پیش کی جائے گی۔ حکام کی مشاورت کے بعد ہی ان تجاویز کے حوالے سے حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ یونیسیف کی ستمبر 2026 کی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 12 سے 17 سال عمر کے تقریباً 16 میں سے ایک انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔