بورس جانسن کا جھوٹا پروپیگنڈا اور قیدی نمبر 420 کی حقیقت، فیاض الحسن چوہان کا دو ٹوک تجزیہ

بورس جانسن کا جھوٹا پروپیگنڈا اور قیدی نمبر 420 کی حقیقت، فیاض الحسن چوہان کا دو ٹوک تجزیہ

اسلام آباد: آزاد ڈیجیٹل کے لیے خصوصی تجزیے میں سابق صوبائی وزیر و سینئر سیاستدان فیاض الحسن چوہان نے برطانوی پارلیمنٹ سے دوتار ہوکر اقتدار سے فارغ ہونے والے سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی پاکستان کے اندرونی معاملات اور عدالتی نظام میں مداخلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عالمی سطح پر صیہونی لابی اور نام نہاد دوست ممالک کے پپٹس کس طرح پاکستان کی خود مختاری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بورس جانسن کا ٹویٹ اور برطانوی دوہرے معیار
فیاض الحسن چوہان نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن نے پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ایک بے بنیاد ٹویٹ کیا کہ پاکستان کے پاپولر ترین لیڈر کو آہستہ آہستہ موت کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایاکہ :

یار ہو دا ہیل آر یو؟ تم ہوتے کون ہو یہ والی سٹیٹمنٹ دینے کے؟ تمہیں اتنی شرم و حیا نہیں کہ تم ایک دنیا کے اہم ترین ملک کے پرائم منسٹر رہے ہو اور تمہیں دوسرے ملک کے ایتھکس اور عدالتی سسٹم کا نہیں پتہ؟۔ 

جھوٹوں کا آئی جی اور پارٹی گیٹ سکینڈل:
فیاض الحسن چوہان نے بورس جانسن کے سیاسی کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ یہ وہی شخص ہے جسے برطانوی پارلیمنٹ سے شرمناک طریقے سے ریزائن دینا پڑا کیونکہ یہ’’جھوٹوں کا آئی جی‘‘ اور فراڈیا ہے۔ کووڈ وباء کے دوران جب برطانیہ میں سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ تھا، تو موصوف ڈاوننگ سٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) میں مسلسل ڈسکو پارٹیاں اور رنگ رلیاں مناتے رہے جس کے نتیجے میں ’’پارٹی گیٹ سکینڈل‘‘ سامنے آیا۔ ہاؤس آف کامنز کی پریویلج کمیٹی کی انکوائری کے بعد 354 ووٹوں سے یہ ثابت ہوا کہ بورس جانسن نے برطانوی پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے صریحاً جھوٹ بولا، جس کے بعد اسے جون 2022 میں مجبورا استعفیٰ دینا پڑا۔

برطانوی اور پاکستانی عدالتی نظام کا تقابل
فیاض الحسن چوہان نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جن برطانوی عدالتوں اور نظامِ عدل میں چند دنوں یا گھنٹوں کی پروسیکیوشن کے بعد فسادات پر 10 سے 18 سال تک کی سزائیں سنا دی جاتی ہیں، کیا وہاں کا کوئی سابق وزیراعظم اس طرح کسی دوسرے ملک کے عدالتی فیصلوں پر انگلیاں اٹھا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کے مقدمات میں ڈیڑھ ڈیڑھ سو پیشیاں ہوئیں، 40 سے 50 وکلاء صفائی روزانہ پیش ہوتے ہیں اور ساڑھے تین سال سے باقاعدہ قانونی کارروائی جاری ہے، جو کسی بھی طور پر برطانوی یا مغربی سسٹمز سے کم شفاف نہیں۔

جیل کی سہولیات یا عیاشیاں؟
برطانوی سیاستدان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے پیشکش کی کہ:

اگر بورس جانسن کو اتنی ہی ہمدری ہے تو اسے پانچ دن کے لیے اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 420 کے ساتھ ‘قیدِ اجتماعی’ میں رکھا جائے، تاکہ اسے معلوم ہو سکے کہ بنی گالا اور زمان پارک کے لاڈلے کو ریاست پاکستان کی طرف سے کتنی پرتعیش بیرکس اور سہولیات میسر ہیں جو شاید یورپ یا امریکہ کی عام جیلوں میں بھی قیدیوں کو خواب میں نہ ملتی ہوں۔

عالمی صیہونی نیٹ ورک اور فتنہ و فساد کا خاتمہ
آخر میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پورا عالمی صیہونی نیٹ ورک، لابی اور استعمار اس کوشش میں ہے کہ ان کا یہ مہرہ پاکستان کی سلامتی، افواج اور ریاستی اداروں کو زیم بوس کر دے۔ مگر وہ خود ترکی اور دیگر مثالوں کی طرح منہ کے بل گر چکے ہیں، اور اب باہر بیٹھ کر صرف فیک نیوز اور پروپیگنڈا کا سہارا لے رہے ہیں۔

Related Articles