’150 روپے ہفتہ وار اجرت سے 150 افراد کو روزگار دینےتک‘، ایک عام ملازم سے 4 برانچزکا مالک بننے والے بزنس مین کی کامیابی کا سفر

’150 روپے ہفتہ وار اجرت سے 150 افراد کو روزگار دینےتک‘، ایک عام ملازم سے 4 برانچزکا مالک بننے والے بزنس مین کی کامیابی کا سفر

اسلام آباد (وسیم ہاشمی ) بہاولپور سے تعلق رکھنے والے مقصود علی نے سال 2006 میں محض 150 روپے ہفتہ وار اجرت سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور آج وہ اپنی محنت کی بدولت اسلام آباد میں 150 افراد کو روزگار فراہم کرنے والے ایک کامیاب کاروباری شخص بن چکے ہیں۔

یہ کہانی ان نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے جو محدود وسائل کے باوجود خوابوں کی تعبیر پانے کا عزم رکھتے ہیں۔

بظاہر یہ ایک نوجوان کا روزگار کی تلاش میں بڑے شہر کی جانب سفر تھا، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسی داستان کا آغاز تھا جس میں محنت، ایمانداری، صبر اور مستقل مزاجی نے آگے چل کر کامیابی کی مضبوط بنیاد رکھی۔

لاہور پہنچ کر مقصود علی نے عملی زندگی میں قدم رکھا۔ دوستوں کے توسط سے انہیں ایئرکنڈیشننگ اور الیکٹرانکس کا کام سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے محض روزگار کمانے کو مقصد نہیں بنایا، بلکہ ہنر سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کو اپنی ترجیح قرار دیا۔

یہی وجہ تھی کہ صرف 6 ماہ کے مختصر عرصے میں انہوں نے اس کام کی بنیادی تکنیکوں پر عبور حاصل کر لیا۔ ان کی محنت، دیانتداری اور کام سے لگن نے انہیں زیادہ دیر تک عام ملازم نہ رہنے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی ماڈل مصباح ارشد مس یونیورس بن گئیں،کامیابی کیسے ملی؟ دلچسپ کہانی

جس کمپنی میں انہوں نے کام سیکھا، وہیں انہیں سپروائزر کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ کمپنی مالکان اور ساتھی ملازمین بھی ان کے کردار، محنت اور استقلال کے معترف ہو گئے۔

مقصود علی کی زندگی کا ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب انہوں نے اپنی پہلی تنخواہ حاصل کی۔ تنخواہ لے کر وہ اپنے والد کے پاس پہنچے تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ اہل خانہ کے لیے تحائف لے کر گھر پہنچنے والے اس نوجوان کے جذبات شاید الفاظ میں بیان نہ کیے جا سکیں۔

ایک زمیندار اور نسبتاً آسودہ حال گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود، مقصود علی نے زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے عملی جدوجہد کا راستہ چنا۔

ان کا کہنا ہے، ’مجھے بچپن ہی سے والدین کی جانب سے ایمانداری، محنت، صبر اور حلال روزی کمانے کا درس ملا، جبکہ عملی زندگی میں اساتذہ اور آجر نے بھی یہی سبق دیا کہ ایمانداری اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔‘

لاہور سے اسلام آباد، ایک نئے سفر کا آغاز

سال 2009 میں مقصود علی لاہور سے اسلام آباد منتقل ہو گئے۔ یہاں بھی انہوں نے وہی کام شروع کیا جس میں وہ مہارت حاصل کر چکے تھے۔ ابتدا چھوٹی اور وسائل محدود تھے، مگر عزم بڑا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی محنت میں برکت عطا کی اور وہ رفتہ رفتہ کامیابی کی منازل طے کرتے چلے گئے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی کمپنی قائم کی اور آج ان کے کاروبار کی اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں 4 برانچز کام کر رہی ہیں۔

آج ان کے کاروبار سے تقریباً 150 افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس شخص کی آج اتنی بڑی ٹیم ہے، اس کی عملی زندگی کی پہلی ہفتہ وار کمائی صرف 150 روپے تھی۔ یعنی اس وقت وہ ماہانہ تقریباً 600 روپے کماتے تھے۔ مقصود علی کے مطابق اس معمولی آمدن میں بھی انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت محسوس ہوتی تھی اور وہ اپنے رزق پر مطمئن تھے۔

کامیابی کے ساتھ خدمتِ خلق کا سفر

مقصود علی کی کہانی صرف کاروباری کامیابی تک محدود نہیں۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملنے والی نعمتوں کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت بھی ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ ون کی دربار مارکیٹ میں واقع ان کے دفتر کے قریب ایک مسجد موجود ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے روزانہ دوپہر 12 بج کر 45 منٹ پر ضرورت مند افراد میں کھانا تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

مزید پڑھیں:6 ستمبر 1965 جنگ ، رات کیا ہوا تھا؟ پہلے 24 گھنٹوں کی مکمل کہانی سامنے آگئی

وہ اسے محض خیرات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک تجارت قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے، ’میرے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ میری تجارت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اور جو انسان اللہ کے ساتھ تجارت کرتا ہے، وہ کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔‘

مقصود علی کی خواہش ہے کہ خدمتِ خلق کا یہ سلسلہ صرف ان تک محدود نہ رہے، بلکہ معاشرے کے دیگر صاحبِ استطاعت افراد بھی اپنے علاقوں میں ضرورت مندوں کا سہارا بنیں۔

150 روپے سے شروع ہونے والی کہانی، آج سینکڑوں چہروں کی خوشی

مقصود علی کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ کامیابی محض بڑے وسائل سے نہیں، بلکہ بڑے عزم سے حاصل ہوتی ہے۔

بہاولپور سے لاہور کا سفر، 6 ماہ میں کام سیکھنا، سپروائزر بننا، 2009  میں اسلام آباد آنا، اپنا کاروبار قائم کرنا اور پھر 4 برانچز تک پہنچنا، یہ تمام مراحل مسلسل محنت اور مستقل مزاجی کے نتیجے میں طے ہوئے۔ آج 40 سالہ مقصود علی 5 بچوں (3 بیٹیوں اور 2 بیٹوں) کے ہمراہ ایک خوشگوار گھریلو زندگی گزار رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں متعدد مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت عطا کی ہے، جبکہ وہ 15 سے زیادہ ممالک کا سفر بھی کر چکے ہیں۔ تاہم ان کے نزدیک اصل کامیابی دنیاوی آسائشیں یا کاروباری وسعت نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی مخلوق کے کام آنا ہے۔

قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے

مقصود علی کہتے ہیں کہ خدمتِ خلق کا سفر ایک فرد سے شروع ہو سکتا ہے، لیکن اگر دوسرے لوگ بھی اس کارِ خیر میں شامل ہو جائیں تو یہ ایک بڑی تحریک بن سکتی ہے۔

ان کا پیغام ہے کہ معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کو تلاش کریں اور ان کی مدد کریں۔

ان کے بقول، ’ضرورتیں پوری کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے، لیکن وہ اپنی مخلوق کی مدد کے لیے بعض لوگوں کی ڈیوٹیاں لگاتا ہے۔ یہ اللہ کے چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں جو اس ذمہ داری کو نبھاتے ہیں۔‘

وہ مخیر حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے علاقوں میں موجود مستحق خاندانوں اور ضرورت مند افراد کا خیال رکھیں، کیونکہ قطرہ قطرہ مل کر ہی دریا بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیدرلینڈز میں ایسا فیسٹیول جس میں سرخ سر ہی نظر آتے ہیں، اس میلے کی حقیقت کیا ہے؟

مقصود علی کا پختہ یقین ہے کہ اگر انسان اللہ کی مخلوق پر رحم کرے اور اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے کامیابی اور آسانیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔

ایک وقت میں 150 روپے ہفتہ کمانے والا نوجوان آج 150 افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے اور اپنی کامیابی کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے خدمتِ خلق کا وسیلہ بنائے ہوئے ہے۔ بلاشبہ، یہی اس سفر کی سب سے خوبصورت منزل ہے۔

معاشی ترقی اور سماجی ذمہ داری کا امتزاج

واضح رہے کہ مقصود علی اس کامیابی کے ماڈل کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) دراصل ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مقصود علی کا چند سو روپے ماہانہ سے ایک بڑی کمپنی کے مالک بننے کا سفر اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ تکنیکی مہارت اور کاروباری دیانت داری کسی بھی بھاری سرمائے سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں:نیدرلینڈز میں ایسا فیسٹیول جس میں سرخ سر ہی نظر آتے ہیں، اس میلے کی حقیقت کیا ہے؟

مزید برآں، اپنے کاروبار کے ساتھ فلاحی کاموں کو تسلسل سے جوڑے رکھنا کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی ایک بہترین مقامی اور فطری شکل ہے۔

جب کاروباری افراد ریاستی اداروں کا انتظار کیے بغیر اپنی سطح پر سماجی فلاح کا بیڑہ اٹھاتے ہیں، تو اس سے نہ صرف غریب طبقے کو فوری معاشی ریلیف ملتا ہے بلکہ معاشرے میں طبقاتی عدم مساوات کی خلیج بھی کم ہوتی ہے۔

ایک وقت میں 150 روپے کمانے والے کا 150 افراد کو روزگار دینا اور پھر مستحقین کا سہارا بننا، ملکی معیشت کے ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک روشن اور قابلِ تقلید روڈ میپ ہے۔

Related Articles