بلوچستان میں ٹرانسپورٹ پر بی ایل اے کے حملوں کے باوجود اختر مینگل سے منسلک ماربل ٹرکوں کی آزادانہ نقل و حرکت نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں ایک طرف دیگر ٹرانسپورٹرز کو حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب اختر مینگل سے منسلک بتائے جانے والے ٹرک معمول کے مطابق بلوچستان سے کراچی ماربل لے جا رہے ہیں۔
بی ایل اے کی جانب سے اختر مینگل سے منسلک ماربل ٹرکوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا، جبکہ دیگر ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں یہی صورتحال اختر مینگل اور بی ایل اے کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
اختر مینگل سے منسلک ٹرک بلوچستان سے کراچی تک ماربل کی ترسیل میں مصروف ہیں اور ان کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری ہےدوسری جانب بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال کے باعث ٹرانسپورٹرز کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے اور مسلح حملوں کے خدشات بھی موجود رہتے ہیں۔
اگر بی ایل اے دیگر ٹرانسپورٹرز کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن اختر مینگل سے منسلک ٹرک محفوظ طریقے سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تو اس صورتحال کی وضاحت ضروری ہے
یہی فرق اختر مینگل اور بی ایل اے کے مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق سوالات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
معاملے پرسوشل میڈیا صارفین کی طرف سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اختر مینگل سے منسلک ٹرکوں کو واقعی کوئی خاص رعایت حاصل ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے، بلوچستان میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی اس صورتحال کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔
