ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا روانہ ، کیا جنگ ختم ہونے والی ہے؟

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا روانہ ، کیا جنگ ختم ہونے والی ہے؟

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی تہران سے نیویارک روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے، تاہم ان کا یہ سفر ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کی کوششیں دوبارہ تیز ہوگئی ہیں۔ عراقچی نے نیویارک روانگی سے قبل قطر میں مختصر قیام کیا جہاں خطے کی تازہ صورتحال اور ممکنہ سفارتی راستے پر مشاورت کی گئی۔

عباس عراقچی کا قطر میں رکنا خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ قطر امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ایرانی حکام نے حالیہ دنوں میں قطر کے ذریعے واشنگٹن تک جنگ ختم کرنے سے متعلق اپنی شرائط پہنچانے کی تصدیق بھی کی ہے۔

عراقچی نیویارک کیوں جا رہے ہیں؟

ایرانی وزیر خارجہ کا بنیادی مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور ایران کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس 22 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بھی نیویارک آمد متوقع ہے۔ امریکا نے ایرانی وفد کو جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ویزے دینے کی منظوری دے دی ہے، اگرچہ وفد کی امریکا میں نقل و حرکت پر پابندیاں عائد ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:احسن اقبال نے ایئرپورٹ پر ایسا کیا کیا؟ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، سب حیران

لیکن موجودہ حالات میں اس دورے کی اہمیت صرف جنرل اسمبلی تک محدود نہیں۔ ایران نے امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے اپنی شرائط پیش کی ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اسی لیے نیویارک میں موجودگی کو ممکنہ سفارتی رابطوں کے لیے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

کیا عراقچی کی امریکا آمد سے جنگ ختم ہونے والی ہے؟

ابھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عراقچی کے نیویارک پہنچنے سے جنگ ختم ہونے والی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں ضرور جاری ہیں، لیکن امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور خطے میں فوجی کشیدگی بھی ختم نہیں ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق دونوں جانب سے حالیہ دنوں میں نئی دھمکیاں بھی سامنے آئی ہیں۔

ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بتایا ہے کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی شرائط پہنچا دی ہیں۔ ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ ایران اب امریکی صدر کے جواب کا منتظر ہے۔

آبنائے ہرمز مذاکرات کا مرکزی مسئلہ کیوں بن گئی؟

موجودہ بحران میں آبنائے ہرمز سب سے اہم تنازعات میں سے ایک ہے۔ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت محدود کردی تھی۔ تہران اب مطالبہ کررہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز ایرانی اجازت حاصل کریں، جبکہ ایرانی حکام ایک ایسے طریقہ کار پر بھی غور کر رہے ہیں جس کے تحت گزرنے والی کمرشل شپنگ سے خدمات کے عوض فیس وصول کی جاسکے۔

رائٹرز کے مطابق جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جبکہ گزشتہ ویک اینڈ پر صرف 12 کموڈیٹی ویسلز نے اس راستے سے گزر کیا۔ اس کے باوجود خطے سے تیل کی مجموعی ترسیل مکمل طور پر بند نہیں ہوئی اور سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنی برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔

نیویارک میں کن اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوسکتی ہیں؟

سب سے اہم امکان ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ممکنہ رابطے یا ملاقات کا ہے۔ ٹرمپ نے پزشکیان سے ملاقات کے امکان پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس وقت ایسی ملاقات حتمی طور پر طے ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف ممالک کے رہنماؤں اور سفارتی نمائندوں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کی اپنی نیویارک مصروفیات میں خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں کے ساتھ ایران جنگ پر بات چیت بھی شامل ہے، جبکہ ان کی دیگر دوطرفہ ملاقاتوں میں یوکرین کے صدر زیلنسکی، برطانیہ کے وزیر اعظم اور جاپان کے وزیر اعظم سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔

سفارت کاری کے لیے پاکستان اور قطر کا کردار

موجودہ بحران میں قطر اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے اور ایران اپنی شرائط واشنگٹن تک پہنچانے کے لیے قطری چینل استعمال کر رہا ہے۔ اسی پس منظر میں عراقچی کا نیویارک روانگی سے قبل دوحہ رکنا اہم سمجھا جارہا ہے۔

اس سے قبل پاکستان بھی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے رابطوں میں کردار ادا کرچکا ہے۔ اپریل میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان جنگ بندی مذاکرات بھی ہوئے تھے۔

جنگ کے خاتمے کے امکانات کہاں کھڑے ہیں؟

موجودہ صورتحال میں تین اہم عوامل فیصلہ کن ہیں: امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایرانی شرائط پر واشنگٹن کا ردعمل۔ سفارتی رابطوں میں تیزی ضرور آئی ہے، لیکن دوسری جانب فوجی کشیدگی اور حوثی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

لہٰذا عراقچی کا نیویارک سفر جنگ کے خاتمے کی حتمی علامت نہیں، لیکن سفارتی راستہ دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم موقع ضرور بن سکتا ہے۔ اصل پیش رفت اس بات سے واضح ہوگی کہ نیویارک میں ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کس سطح تک پہنچتے ہیں اور آبنائے ہرمز سمیت تہران کی شرائط پر دونوں ممالک کس حد تک اتفاق رائے پیدا کر پاتے ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles