انڈونیشیا کے جزیرے فلورس پر واقع ایک آتش فشاں ایسا قدرتی منظر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو پہلی نظر میں کسی جادوئی دنیا کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
کیلی مونو نامی آتش فشاں کی چوٹی پر تین جھیلیں ایک دوسرے کے انتہائی قریب واقع ہیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ تینوں جھیلوں کے پانی کا رنگ ایک جیسا نہیں۔ ان کے رنگ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور کبھی نیلا، سبز، سیاہ، سفید یا گہرا سرخ دکھائی دیتے ہیں۔ یہی غیر معمولی منظر کیلی مونو کو دنیا کے منفرد قدرتی مقامات میں شامل کرتا ہے۔
3 جھیلیں، تین الگ کہانیاں
مقامی افراد ان جھیلوں کو مقدس اور پراسرار سمجھتے ہیں۔ مقامی روایت کے مطابق مرنے والوں کی روحیں ان جھیلوں میں آ کر بسیرا کرتی ہیں، اسی وجہ سے تینوں جھیلوں کے الگ الگ نام بھی رکھے گئے ہیں۔ ایک جھیل کو تیوو اتا بپو کہا جاتا ہے، جس کا مطلب بزرگ افراد کی روحوں کی جھیل ہے۔ اس کا پانی عموماً نیلا یا سبز دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جھیل کا نام تیوو نوا موری کو فائی ہے، جسے نوجوانوں اور کنواری لڑکیوں کی روحوں کی جھیل کہا جاتا ہے۔ اس کا رنگ اکثر ہلکا سبز یا فیروزی نظر آتا ہے۔ تیسری جھیل تیوو اتا پولو کہلاتی ہے، جسے بدروحوں کی جھیل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کا پانی بعض اوقات گہرے سرخ یا سیاہ رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔
پانی رنگ کیوں بدلتا ہے؟
مقامی روایات اپنی جگہ، لیکن سائنس اس عجیب منظر کی ایک مختلف وضاحت پیش کرتی ہے۔ کیلی مونو ایک فعال آتش فشانی علاقہ ہے۔ اس کے اندر موجود زمینی دراڑوں سے مختلف گیسیں اور معدنی اجزا جھیلوں کے پانی میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔
ان میں سلفر سے متعلق مرکبات اور دیگر معدنیات شامل ہیں۔ پانی میں موجود کیمیائی اجزا جب آکسیجن کے ساتھ ردعمل کرتے ہیں تو پانی کی کیمیائی خصوصیات تبدیل ہوسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں اس کا رنگ بھی بدلتا دکھائی دیتا ہے۔
پانی میں موجود لوہے اور دیگر معدنیات کی مقدار اور کیمیائی حالت میں تبدیلی گہرے سرخ یا سیاہ رنگ کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ دوسرے معدنی اجزا پانی کو سبز یا فیروزی رنگ دے سکتے ہیں۔
رنگ کب تبدیل ہوگا؟
ان جھیلوں کی ایک دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ ان کے رنگ مستقل نہیں رہتے۔ آتش فشاں کے اندر درجہ حرارت، گیسوں کا اخراج اور پانی کی کیمیائی ساخت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ یہی عوامل جھیلوں کے رنگ پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے جھیلوں کا رنگ کب اور کس حد تک تبدیل ہوگا، اسے ہر وقت ایک ہی انداز میں پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔
قدرت کا حیران کن منظر
کیلی مونو کی یہ 3 جھیلیں ایک ہی آتش فشانی چوٹی پر موجود ہونے کے باوجود مختلف رنگوں میں نظر آتی ہیں۔ مقامی روایات نے انہیں روحوں اور پراسرار کہانیوں سے جوڑ رکھا ہے، جبکہ سائنس ان کے رنگوں کو آتش فشانی سرگرمی، معدنیات اور کیمیائی ردعمل سے سمجھاتی ہے۔
یہی قدرتی اور ثقافتی امتزاج کیلی مونو کو انڈونیشیا کے منفرد سیاحتی مقامات میں شامل کرتا ہے، جہاں ایک ہی پہاڑ کی چوٹی پر تین مختلف رنگوں والی جھیلیں دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ پہنچتے ہیں۔