آپ کسی ایسی چیز کے لیے کتنی رقم ادا کریں گے جو آپ کو دکھائی ہی نہ دے؟ اطالوی فنکار سالواتور گاراؤ نے اپنے ایک ایسے ہی منفرد فن پارے کو 18 ہزار ڈالر سے زائد میں فروخت کیا، جس کا نہ کوئی جسمانی وجود ہے اور نہ ہی اسے آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس فن پارے کا نام ’لو سنو‘ہے جس کا مطلب ’میں ہوں‘ ہے۔ اسے آرٹ نیلام گھرآرٹ رائیٹ کے ذریعے فروخت کیا گیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خریدار کو کسی مجسمے یا فن پارے کی بجائے اس کی صداقت کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ یعنی خریدار نے ایک ایسے مجسمے کی ملکیت حاصل کی جو حقیقت میں کسی مادی شکل میں موجود ہی نہیں۔
فنکار کے تصور کے مطابق یہ ایک خالی جگہ میں موجود ایک غیر مرئی وجود ہے۔ یہاں اصل فن پارہ کوئی جسمانی چیز نہیں بلکہ وہ تصور ہے جسے دیکھنے والا اپنے ذہن میں تخلیق کرتا ہے۔
سالواتور گاراؤ کا یہ کام اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر فن کی قدر کس چیز سے طے ہوتی ہے؟ کیا فن پارے کے لیے جسمانی وجود ضروری ہے یا صرف ایک خیال بھی مکمل فن پارہ ہو سکتا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ لو سنو’Io Sono‘ نے آرٹ کی دنیا میں فن، ملکیت اور قیمت کے بارے میں ایک دلچسپ بحث چھیڑ دی ہے۔ یعنی خریدار نے ایک ایسا مجسمہ خریدا جسے نہ گھر میں رکھا جا سکتا ہے، نہ آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کی ملکیت کا باقاعدہ سرٹیفکیٹ ضرور موجود ہے۔