مقبوضہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا سخت موقف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 4 نکاتی عالمی لائحہ عمل پیش کردیا

مقبوضہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا سخت موقف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 4 نکاتی عالمی لائحہ عمل پیش کردیا

پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے 81ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں مظالم، مئی 2025 کے پاک بھارت تصادم اور سندھ طاس معاہدے پر بھارتی یکطرفہ اقدامات کے خلاف 4 نکاتی عالمی لائحہ عمل پیش کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ کشمیری عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی آزادانہ اور منصفانہ صوابدید کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے بھارت مسلسل غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں کشمیر کے آبادیاتی، سیاسی اور ثقافتی تناسب کو تبدیل کرنے کی مذموم کوششیں کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دو روزہ او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس آج اسلام آباد میں شروع ہوگی

مقبوضہ وادی میں سیاسی اور شہری آزادیوں کو یکسر سلب کر دیا گیا ہے جبکہ ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ اور ’انلافل ایکٹیویٹیز پریوینشن ایکٹ‘ جیسے کالے قوانین کے تحت سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور نوجوانوں کو بلاجواز گرفتاریوں اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 مزید برآں میڈیا پر پابندیاں، کشمیر پریس کلب کی زبردستی بندش اور 8000 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنا بھارتی سنسرشپ کا واضح ثبوت ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی 16 اکتوبر 2025 کی رپورٹ نے بھی 2800 افراد کی گرفتاریوں، مکانات کی مسماری اور کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کی تصدیق کی ہے۔

مئی 2025 کا پاک بھارت تنازع اور سندھ طاس معاہدہ

وزیر خارجہ نے مئی 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد ہونے والی پاک بھارت ملٹری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے اور ملٹری جارحیت کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کو ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا۔ اس خطرناک تصادم نے عالمی برادری کو یاد دہانی کرائی کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو ایک طرفہ طور پر معطل کرنے کی بھارتی کوشش شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالتِ ثالثی نے بھی بین الاقوامی معاہدو ں کی بالادستی اور مغربی دریاؤں سے متعلق معاہدے کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔

بھارت اپنے اندرونی قوانین کا سہارا لے کر نہ تو سلامتی کونسل کی قراردادوں سے مکر سکتا ہے اور نہ ہی سندھ طاس معاہدے سے فرار اختیار کر سکتا ہے۔

او آئی سی کے لیے 4 نکاتی سفارتی لائحہ عمل

نائب وزیراعظم نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی حمایت کو مسلسل سفارتی عمل میں ڈھالنے کے لیے درج ذیل 4 نکاتی اقدامات پر عمل کریں۔

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر متحد مؤقف اختیار کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔

بھارت سے 5 اگست 2019 کے تمام غیر قانونی اقدامات کی منسوخی، آبادیاتی تناسب بگاڑنے کے سلسلوں کی روکتھام اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جائے۔

او آئی سی کے خصوصی نمائندے، فیکٹ فائنڈنگ مشن، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور عالمی میڈیا کو مقبوضہ وادی تک بلا تعطل رسائی دی جائے۔

نیویارک اور جنیوا میں مشترکہ سفارت کاری کو فعال بنایا جائے اور مقبوضہ کشمیر پر انسانی حقوق کمیشن کی نئی رپورٹ کے اجرا کی حمایت کی جائے۔

کشمیر کا دیرینہ تنازع اور عالمی وعدے

مسئلہ جموں کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے۔ 1947 کے بعد سے عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا، جسے بھارت اپنے غاصبانہ تسلط، انتخابی ڈراموں اور آئینی ترمیمات کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔

او آئی سی کا رابطہ گروپ ہر سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اپنا اجلاس منعقد کر کے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے حل کی جدوجہد کا اعادہ کرتا ہے۔

سفارتی جنگ میں پاکستان کا دو ٹوک اور جامع بیانیہ

اقوام متحدہ کے 81ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان کا یہ خطاب ایک جامع اور جارحانہ سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات نہیں کی بلکہ مسئلہ کشمیر کو خطے کی ایٹمی سلامتی (مئی 2025 کے تصادم کے حوالے سے) اور ’واٹر سیکیورٹی‘ (سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے) سے جوڑ کر عالمی برادری کی توجہ حاصل کی ہے۔

عدالتِ ثالثی کا فیصلہ اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق رپورٹرز کے اعداد و شمار پیش کرنے سے پاکستان کے موقف کو مضبوط قانونی اور اخلاقی بنیاد مل گئی ہے۔

او آئی سی کے لیے پیش کردہ 4 نکاتی لائحہ عمل اگر عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے عالمی فورمز پر بھارت پر سفارتی دباؤ میں سوات فیصد اضافہ ممکن ہو جائے گا۔

Related Articles