نیوزی لینڈ کے گھنے جنگلات میں پایا جانے والا ایک ایسا طوطا بھی ہے جو عام پرندوں سے بالکل مختلف ہے۔ کاکاپو نامی یہ پرندہ نہ صرف اڑنے سے قاصر ہے بلکہ رات کے وقت متحرک ہوتا ہے اور اپنی جسامت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بھاری طوطا بھی سمجھا جاتا ہے۔
کاکاپو اپنی چمکدار سبز رنگ کی جسامت، چہرے کے گرد کریمی رنگ کے پروں، جامنی رنگ کی آنکھوں، بڑی چونچ اور بڑے پاؤں کے باعث دور سے ہی منفرد دکھائی دیتا ہے۔
اس پرندے کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ یہ دنیا کا واحد اڑنے سے قاصر طوطا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 9 پاؤنڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق یہ تقریباً 100 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
کاکاپو دن کے بجائے رات کو سرگرم ہوتا ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد یہ خوراک کی تلاش میں جنگل میں نکلتا ہے۔ چہرے کے گرد موجود باریک پروں کی مدد سے یہ اندھیرے میں اپنے اردگرد کو محسوس کرتا ہے اور اپنے بڑے پاؤں سے درختوں پر بھی چڑھ سکتا ہے۔
اس کی پسندیدہ غذاؤں میں نیوزی لینڈ کے مقامی رِمو درخت کے بیج شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کاکاپو کی افزائش بھی رِمو درختوں کی پیداوار سے جڑی ہوئی ہے۔ جب درخت پر زیادہ پھل آتے ہیں تو کاکاپو کی افزائش کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
کاکاپو کی افزائش نسل بھی دوسرے پرندوں کے مقابلے میں انتہائی سست ہے۔ یہ عام طور پر ہر چار سے پانچ سال بعد افزائش نسل کرتا ہے۔ نر کاکاپو مادہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مخصوص جگہوں پر مقابلہ کرتے ہیں اور رات بھر گہری آواز میں “بومنگ” کرتے ہیں۔
یہ آوازیں مسلسل کئی گھنٹوں تک سنائی دے سکتی ہیں۔ مادہ اپنے ساتھی کا انتخاب کرنے کے بعد ایک سے 4 انڈے دیتی ہے، جو تقریباً 30 دن میں بچے دیتے ہیں۔ بچے تقریباً 10 سے 12 ہفتوں میں خود مختار ہونے لگتے ہیں۔
کاکاپو نیوزی لینڈ کے مقامی ماوری لوگوں کے لیے بھی تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے اور ان کی روایات اور لوک کہانیوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔
تاہم آج یہ منفرد پرندہ شدید خطرے سے دوچار ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق کاکاپو کی معلوم آبادی 209 پرندوں تک محدود ہے۔ ان میں سے بالغ پرندوں کو نام اور شناختی ٹیگ دیے گئے ہیں اور انہیں نیوزی لینڈ کے ساحل سے دور شکاری جانوروں سے محفوظ چار جزیروں پر رکھا گیا ہے۔
کاکاپو کی عجیب و غریب خصوصیات اسے دنیا کے منفرد پرندوں میں شامل کرتی ہیں، لیکن اس کی محدود آبادی اسے تحفظ کی فوری ضرورت رکھنے والی انواع میں بھی شامل کرتی ہے۔