رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد جولائی اور اگست میں مجموعی طور پر 7.3 ارب ڈالر پاکستان منتقل ہوئے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملک کو تقریباً 6.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی تھیں۔ یوں رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ترسیلات زر کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک ارب ڈالر زیادہ رہا۔
معیشت کیلئے اہم پیش رفت
ماہانہ اقتصادی جائزے میں ترسیلات زر میں اضافے کو ملکی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی تعداد اور ان کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اندازے کے مطابق تقریباً 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی سالانہ 40 ارب ڈالر سے زائد رقم ملک بھیج رہے ہیں۔
سعودی عرب سے سب سے زیادہ رقوم
جولائی اور اگست کے دوران مختلف ممالک سے موصول ہونے والی ترسیلات زر میں سعودی عرب نمایاں رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے دو ماہ کے دوران مجموعی طور پر 873 ملین ڈالر پاکستان بھیجے۔
سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات سے بھی بڑی مقدار میں ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ یو اے ای سے آنے والی رقوم کا حجم 750 ملین ڈالر رہا۔
برطانیہ اور امریکا سے بھی بڑی ترسیلات
برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھی پاکستان کو قابل ذکر رقوم منتقل کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست میں برطانیہ سے 564 ملین ڈالر پاکستان موصول ہوئے۔
اسی طرح امریکا سے بھی پاکستانیوں نے 309 ملین ڈالر وطن منتقل کیے۔ ان ممالک سے آنے والی رقوم مجموعی ترسیلات زر میں نمایاں حصہ رکھتی ہیں۔
ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ
رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران ترسیلات زر کا 7.3 ارب ڈالر تک پہنچنا گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں واضح اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اقتصادی جائزے کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے اہم مالی سہارا فراہم کرتی ہیں۔