10 سال میں ایک ارب انسان نما روبوٹس؟ ایلون مسک نے بڑی پیشگوئی کردی

10 سال میں ایک ارب انسان نما روبوٹس؟ ایلون مسک نے بڑی پیشگوئی کردی

ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے انسان نما روبوٹس کے مستقبل کے حوالے سے بڑی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ان روبوٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

 ان کے مطابق مستقبل میں ذاتی نوعیت کے روبوٹس گھریلو زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں اور لوگ بچوں کی تعلیم، معمر افراد کی دیکھ بھال سمیت متعدد روزمرہ امور میں ان سے مدد لے سکیں گے۔

ایلون مسک نے چینی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں پیش رفت کے نتیجے میں ایک شخص مستقبل میں بیک وقت ہزاروں روبوٹس اور ڈیجیٹل ایجنٹس کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔

ایک ارب روبوٹس کی پیشگوئی

ٹیسلا کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ دنیا میں انسان نما روبوٹس کی تعداد آئندہ 10 برس کے دوران ایک ارب تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے اس کے بعد بھی روبوٹکس کے تیزی سے پھیلنے کا اندازہ ظاہر کیا۔

 یہ بھی پڑھیں :اے آئی انسانوں سے بہتر کام کرے گی، ایلون مسک نے وقت بھی بتا دیا

ایلون مسک کے مطابق 15 سال کے عرصے میں انسان نما روبوٹس کی تعداد 10 ارب جبکہ 20 سال بعد یہ تعداد 100 ارب تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ان کی جانب سے مستقبل کے ممکنہ رجحانات سے متعلق پیشگوئی کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

گھروں میں ذاتی روبوٹس کا استعمال

ایلون مسک نے کہا کہ مستقبل میں روبوٹس کا استعمال صرف صنعتوں یا کاروباری اداروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عام لوگ بھی ذاتی روبوٹس استعمال کرسکیں گے۔

ان کے مطابق خاندان اپنے معمر والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایسے روبوٹس سے مدد لے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھر کے مختلف کاموں اور دیگر روزمرہ ذمہ داریوں میں بھی روبوٹس معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

بچوں کی تعلیم بھی روبوٹس کے ذریعے

ٹیسلا کے سی ای او کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بچوں کی تعلیم سمیت بہت سے ایسے کام بھی روبوٹس کے ذریعے انجام دیے جاسکتے ہیں جن کے لیے اس وقت انسانوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

انہوں نے اس امکان کی طرف بھی اشارہ کیا کہ مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹس مختلف افراد کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے ان کے لیے مخصوص خدمات فراہم کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

ایک شخص ہزاروں روبوٹس کنٹرول کرے گا

ایلون مسک کے مطابق مستقبل کی ٹیکنالوجی انسان اور مشین کے درمیان کام کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص بیک وقت ہزاروں روبوٹس اور ڈیجیٹل ایجنٹس کو کنٹرول کرسکے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایلون مسک امریکا کے امیر ترین شخص، دنیا کے پہلے کھرب پتی بھی بن گئے

اس تصور کے تحت ایک فرد مختلف مقامات پر موجود خودکار مشینوں کو ایک مرکزی نظام کے ذریعے ہدایات دے سکے گا، جس سے روبوٹکس کا استعمال بڑے پیمانے پر ممکن ہوسکتا ہے۔

چین جانے کا مشورہ

ایلون مسک نے گفتگو کے دوران چین کے سفر کا بھی مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو موقع ملنے پر چین ضرور جانا چاہیے، جبکہ اگر وقت کم ہو تو شنگھائی اور بیجنگ کا دورہ ضرور کرنا چاہیے۔

انسان نما روبوٹس کے حوالے سے ایلون مسک کی پیشگوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت، خودکار مشینوں اور روبوٹکس کے شعبوں میں دنیا بھر میں تیزی سے سرمایہ کاری اور تحقیق ہورہی ہے۔ تاہم روبوٹس کی تعداد سے متعلق بیان ایک پیشگوئی ہے اور مستقبل میں اس کے درست ثابت ہونے کا انحصار ٹیکنالوجی، لاگت، پیداوار اور عالمی مارکیٹ میں طلب سمیت مختلف عوامل پر ہوگا۔

editor

Related Articles