سینئر صحافی اور اینکر پرسن منصور علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مجوزہ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ احتجاج کی صورت میں ریاستی سطح پر سخت اقدامات کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔
منصور علی خان نے اپنے ڈیجیٹل چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اگر پارٹی نے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ آگے بڑھایا تو حکومت اسے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
مارچ کی اجازت نہیں
سینئر صحافی کے مطابق حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسلام آباد کی طرف مجوزہ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق حکومت اس معاملے پر اپنے مؤقف میں واضح ہے اور 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ کسی بھی احتجاج کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت اور معمولات زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی 27 ستمبر کے حوالے سے ریاست کی رِٹ قائم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کا اختیار استعمال کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
سخت کارروائی کی تیاری
منصور علی خان کے مطابق حکومتی حلقوں میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے احتجاج کو آگے بڑھایا تو اسے ایسا سبق سکھانے کی تیاری مکمل ہے جس کے اثرات طویل عرصے تک رہیں گے۔
عمران خان سے ملاقات کا معاملہ
منصور علی خان نے گفتگو میں یہ بھی بتایا کہ حکومتی نمائندوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو یہ بتایا گیا تھا کہ پارٹی بانی عمران خان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم یہ ملاقات 27 ستمبر سے پہلے نہ کرانے کی بات کی گئی،ان کے مطابق حکومتی حلقوں میں یہ خدشہ موجود تھا کہ احتجاج سے قبل ایسی ملاقات کی اجازت دینا حکومت کی کمزوری تصور کی جا سکتی ہے۔
اعتماد سازی کی پیشکش کی تردید
سینئر صحافی کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات کی پیشکش کیے جانے کے دعوے کی تردید کی ہے۔منصور علی خان کے مطابق طلال چوہدری کا مؤقف تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بہت کچھ مانگا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اس سے بھی کم دینے کے لیے تیار نہیںدوسری جانب حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی اور حکومتی حلقوں کے درمیان پس پردہ رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں تاہم اعتماد کے فقدان کے باعث کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔
پارٹی قیادت کو حکمت عملی کا علم نہیں؟
منصور علی خان نے اپنی گفتگو میں ایک پی ٹی آئی رہنما کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو اب تک احتجاج کی حتمی حکمت عملی کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں۔
ان کے مطابق پارٹی کے اندر 27 ستمبر کے احتجاج کے طریقہ کار اور مارچ کے اگلے مرحلے سے متعلق مختلف آرا پائی جاتی ہیں،اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بھی پی ٹی آئی کے اندر 27 ستمبر کے مارچ کی حکمت عملی پر اختلافات کی بات سامنے آچکی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پارٹی قیادت نے پنجاب کی سرحد پر دھرنے اور مرحلہ وار اسلام آباد کی جانب بڑھنے کی تجویز دی تھی، جبکہ بعض ارکان اسمبلی نے اسی روز اسلام آباد کی طرف بڑھنے پر اصرار کیا۔
اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات
27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات پہلے ہی سخت کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر رکاوٹیں قائم کی جارہی ہیں جبکہ اضافی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں رینجرز کی تعیناتی بھی کی گئی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔