ایران کی مکہ معاہدے میں شمولیت، وزیر دفاع خواجہ آصف کا اہم بیان سامنے آگیا

ایران کی مکہ معاہدے میں شمولیت، وزیر دفاع خواجہ آصف کا اہم بیان سامنے آگیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران سمیت مزید اسلامی ممالک کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے کہا ہے کہ معاہدے میں نئے ممالک کو شامل کرنے کا راستہ موجود ہے تاہم رکنیت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ موجودہ تینوں رکن ممالک کی باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔

صحافی کی جانب سے ایران کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے  تاہم اس وقت مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم ہے۔ ان کے مطابق کسی نئے ملک کو شامل کرنے کا فیصلہ تینوں موجودہ رکن ممالک کی مشترکہ صوابدید ہوگی۔

ایران کی شمولیت

خواجہ آصف نے ایران کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں ایک اہم ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد کسی ریاست کو ہدف بنانا نہیں۔

وزیر دفاع  نے کہا  کہ اگر مستقبل میں کوئی نیا ملک اس معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو اس کی شمولیت کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں :اسرائیل کسی کا دوست نہیں،اتحاد امت ہی بقا کی علامت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا بڑا بیان

انہوں نے واضح کیا کہ فی الوقت معاہدے کے تین رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ہیں اور رکنیت میں توسیع کا فیصلہ انہی ممالک کی مشاورت سے ہوگا۔

متعدد اسلامی ممالک کی دلچسپی

وزیر دفاع کے مطابق کئی اسلامی ممالک نے مکہ معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ تاہم کسی بھی ملک کی باقاعدہ شمولیت کے حوالے سے حتمی فیصلہ تینوں موجودہ رکن ممالک کے درمیان مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

خواجہ آصف نے کہا  کہ معاہدے کے انتظامی ڈھانچے کو فعال کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جانا ہے جو ممکنہ طور پر اکتوبر کے آغاز میں فعال ہوجائے گا۔

سیکریٹریٹ کب فعال ہوگا؟

خواجہ آصف  نے کہا ہے کہ  مکہ معاہدے کے تحت قائم ہونے والے سیکریٹریٹ کے اکتوبر کے اوائل میں کام شروع کرنے کی توقع ہے۔ تاہم معاہدے کے انتظامی اور بیوروکریٹک نظام کو مکمل طور پر فعال ہونے میں تقریباً دو سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل اور دیگر انتظامی امور مکمل ہونے کے بعد معاہدے کے تحت طے شدہ معاملات کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے گا۔

کسی ملک کے خلاف نہیں 

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی یا اتحاد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایوان کا تقدس یقینی بنانا ہر رکن کی ذمہ داری، پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا، خواجہ آصف

ان کے مطابق معاہدے میں شامل ہونے والے ممالک کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ نئے رکن کی شمولیت کے لیے بھی یہی بنیادی اصول مدنظر رکھا جائے گا۔

امریکا اور ایران کے  رابطے 

خواجہ آصف سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں اور ملاقاتوں کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ملاقاتیں ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ جب دو ملکوں کے تعلقات انتہائی خراب ہوں تو ان کے درمیان براہ راست ملاقاتوں کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو کسی ممکنہ پیش رفت اور مسئلے کے حل کی امید برقرار رہتی ہے جبکہ رابطے مکمل طور پر ختم ہوجانے کی صورت میں کسی حل تک پہنچنے کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں۔

editor

Related Articles