ایران، امریکا کشیدگی کے خاتمے کیلئے نئی کوششیں، ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

ایران، امریکا کشیدگی کے خاتمے کیلئے نئی کوششیں، ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں ۔ دونوں ممالک کے وفود موجودہ تعطل ختم کرنے اور مرحلہ وار معاہدے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں ایسے ممکنہ فارمولے پر غور کیا جارہا ہے جس کے تحت دونوں فریق مرحلہ وار اقدامات کے ذریعے کشیدگی کم کرسکتے ہیں۔ م

جوزہ انتظام میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکا کی طرف سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی یا خاتمے جیسے اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔

مرحلہ وار معاہدے کی تجویز

ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں فوری طور پر کسی جامع معاہدے کے بجائے مرحلہ وار پیش رفت کے امکان پر غور کیا جارہا ہے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ موجودہ تعطل ختم کرنے کے لیے مرحلہ وار معاہدہ سب سے قابل عمل راستہ ہوسکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سوئٹرز لینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کے بعد پاکستان اورقطر کا مشترکہ اعلامیہ جاری

اس فارمولے کے تحت دونوں ممالک بیک وقت یا مرحلہ وار ایسے اقدامات کرسکتے ہیں جن سے کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے۔

تاہم مذاکرات کے بعض اہم نکات پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید بات چیت درکار ہوگی۔

آبنائے ہرمز کا معاملہ اہم

مجوزہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کا معاملہ خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے بعض معاملات میں لچک کا عندیہ دیا جارہا ہے  تاہم آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر تہران کا مؤقف بدستور اہم رکاوٹ سمجھا جارہا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کی صورتحال کا عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

مذاکرات میں اس معاملے کو کس طرح حل کیا جائے گا، یہ آئندہ بات چیت کے اہم نکات میں شامل ہوگا۔

امریکی اقتصادی پابندیاں بھی زیر بحث

ممکنہ مرحلہ وار معاہدے کے دوسرے اہم حصے میں ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کا معاملہ شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ ڈیل میں امریکا کی جانب سے ایران کی اقتصادی ناکہ بندی یا پابندیوں میں نرمی کا امکان زیر غور ہے  جبکہ اس کے بدلے ایران کی جانب سے کچھ اقدامات کیے جانے کی توقع کی جارہی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کے باعث کسی بھی معاہدے کو مرحلہ وار نافذ کرنے کے فارمولے پر غور کیا جارہا ہے  تاکہ ہر اقدام کے جواب میں دوسرا فریق بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

معاہدے کے امکانات پر مختلف آرا

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مختلف تجزیے بھی سامنے آرہے ہیں۔ امریکا کے سابق مذاکرات کار ڈینس راس کے مطابق مڈٹرم انتخابات سے قبل دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان 30 فیصد ہے۔

؎ یہ بھی پڑھیں :برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے ایران امریکہ تنازعہ میں ثالثی کردار کی تعریف

یہ رائے ایک سابق امریکی مذاکرات کار کا تجزیہ ہے  اسے مذاکرات کی حتمی پیش رفت یا کسی معاہدے کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔

مذاکرات میں رکاوٹیں برقرار

اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذریعے تعطل ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں  تاہم اہم معاملات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر مؤقف، امریکی اقتصادی پابندیوں اور جنگ کے خاتمے کے لیے قابل قبول شرائط طے کرنا مذاکرات کے اہم چیلنجز میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دونوں فریق مرحلہ وار معاہدے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ طریقہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ممکنہ راستہ بن سکتا ہے ۔

editor

Related Articles