وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سیاسی کمیٹی نے اتفاق کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا، جبکہ 5 اکتوبر کو بانی کی سالگرہ کے موقع پر یوم فتح منایا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ سیاسی کمیٹی میں تمام معاملات پر مشاورت کی گئی اور کمیٹی اس بات پر متفق ہوئی ہے کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد آئین کی بحالی کے لیے ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب کسی کی شنوائی نہ ہو تو پرامن احتجاج کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ارکان اور کارکنان کو گرفتار کیا جا رہا ہے، تاہم ہمارا سیاسی مقابلہ ہے اور ہم سیاسی لوگ ہیں، ہم نے پہلے بھی پرامن جدوجہد کی تھی اور اب بھی کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ پرامن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطابق بعض عناصر خیبرپختونخوا کو پاکستان سے الگ کرنے کی سازش کر رہے ہیں، وہ عوامی مینڈیٹ سے نہیں آئے بلکہ مسلط کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ لڑتی رہے اور یہ جہاز خریدتے رہیں۔ ان کے بقول ملک کا قرض بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا ہے اور متعلقہ لوگوں نے نہ پاکستان کا سوچنا ہے نہ عوام کا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدزبانی اور انتشار کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے چیف جسٹس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ہر طرف سے بند کیا ہوا ہے، چیف جسٹس بھی اس پر ایکشن لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے رجیم چینج آپریشن ہوا ہے، تب سے تھریٹس ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان راضی ہیں اور یہ ٹیسٹ میچ ہے، ٹاس جیت لیا ہے، اب ہماری مرضی ہے کہ بیٹنگ کریں یا بولنگ۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ مطالبات منوانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں میں نفرت اس بار بہت زیادہ ہے اور یہ سب کو پتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ 4 اکتوبر کو نکلیں گے وہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے اور اپنے مطالبات منوائے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 4 اکتوبر کو سب ایک ہی کنٹینر پر ہوں گے، یہ ہماری سیاسی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اکتوبر کو بانی کی سالگرہ ہے اور اس دن یوم فتح منائیں گے۔