وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے وعدے پورے کیے جائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جنرل اسمبلی سے ایک مرتبہ پھر خطاب کرنا ان کے لیے اعزاز ہے اور وہ چوتھی مرتبہ جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر خلیل الرحمن کو مبارکباد بھی دی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کو اسلام آباد میں ایک میز پر بٹھایا اور ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب خطے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں نے سفارتکاری کی گنجائش پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے جھوٹا بیانیہ بنا کر حملہ کیا، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بھرپور دفاع کیا اور جنگ جیتی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو ایسا سبق سکھایا جسے وہ کبھی بھول نہیں سکے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے وعدے پورے کیے جائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔
افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج اور بی ایل اے استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور افغان سرزمین سے ہونے والے تمام حملے بند کرنا ہوں گے۔