امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ 7 روزہ جنگ بندی کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے اور وہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیش نے امریکا کے ساتھ جوہری تعاون کا معاہدہ طے کر لیا ہے جبکہ اس کا روسی ایندھن کا جہاز تاخیر کا شکار ہے۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے تہران کی حالیہ سفارتی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔
اس ایرانی منصوبے میں شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات کی بحالی کی تجویز دی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 22 ستمبر کے خطاب میں ٹرمپ نے ’اسلامی جمہوریہ‘ کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دی تھی، لیکن ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انتخابات کے بعد کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
تاہم ان کے قریبی رفقا کے ساتھ ہونے والی گفتگو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سفارتی بیانات کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائی کا آپشن بھی پوری طرح میز پر موجود ہے۔
ایران کی سفارتی کوششیں اور شرائط
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو ایک نیا معاہدہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت 7 ویں دن کے اختتام پر آبنائے ہرمز کھول دیا جاتا اور مشروط طور پر مذاکرات بحال ہو جاتے۔
جرمن وزیر خارجہ جوہان واڈفول سے ملاقات میں انہوں نے واضح کیا کہ خطے کا امن امریکی مداخلت اور جارحیت کے خاتمے سے مشروط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز اسی مفاہمتی یادداشت سے مماثلت رکھتی ہے جو جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پائی تھی۔
سابقہ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا پر جون میں طے پانے والے فریم ورک پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران پر حملے کیے اور بات چیت کے راستے بند کر دیے۔
انہوں نے امریکا پر ایرانی سپریم لیڈر، سائنسدانوں، فوجی کمانڈروں اور حکومتی شخصیات کے قتل کا سنگین الزام بھی عائد کیا، تاہم ان کا اصرار تھا کہ تہران اب بھی سابقہ فریم ورک کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
بنگلہ دیش کا امریکا کے ساتھ نیا جوہری معاہدہ
ایک الگ اور اہم پیش رفت میں، بنگلہ دیش اور امریکا نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
’بی این پی‘ کے میڈیا سیل کے مطابق اس معاہدے پر بنگلہ دیش کے مشیرِ سائنس و ٹیکنالوجی ریحان اسد اور امریکی عہدیدار جیکب ہیلبرگ نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ 1981 میں ضیاء الرحمن کے دور میں شروع ہونے والے تعاون کا تسلسل ہے۔
روسی ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ امریکی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پبنا کے ضلع میں دریائے پدما کے کنارے زیرِ تعمیر ’روپور نیوکلیئر پاور پلانٹ‘ کے یونٹ 2 کے لیے روسی ادارے ’روس ایٹم‘ کی جانب سے آنے والا یورینیم کا جہاز تاخیر کا شکار ہے۔
وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے جوائنٹ سیکریٹری شیخ محمد توحید الاسلام نے ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ ہوائی اڈے پر تمام تیاریاں مکمل تھیں، مگر فضائی حدود کے مسائل کے باعث روسی حکام نے ترسیل روک دی۔
2400 میگاواٹ کے اس منصوبے کے پہلے یونٹ کا ایندھن 2023 میں پہنچ چکا تھا مگر اب دوسرے یونٹ کی فراہمی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
عالمی طاقتوں کی صف بندیاں اور تنازعات
امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی میں حالیہ برسوں کے دوران بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خطے میں عسکری اور معاشی غلبے کی یہ جنگ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستوں کو مسلسل عدم استحکام کا شکار کر رہی ہے۔
دوسری جانب جنوبی ایشیا میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بنگلہ دیش کا بیک وقت روس اور امریکا کے ساتھ تعلقات متوازن رکھنے کی کوشش عالمی سیاست کی ان پیچیدگیوں کو ظاہر کرتی ہے جہاں ایک طاقت کا اثر کم کرنے کے لیے دوسری طاقت فوری متبادل پیش کر دیتی ہے۔
سفارتی محاذ پر بچھائی گئی بساط اور مستقبل کے خطرات
موجودہ صورتحال عالمی طاقتوں کی دوہری پالیسی کا انتہائی واضح عکس پیش کرتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک طرف مذاکرات کی امید دلانا اور دوسری طرف پسِ پردہ فوجی حملوں کی تیاری دراصل دباؤ بڑھانے کی ایک نفسیاتی اور عسکری جنگ ہے۔
ایران کی جانب سے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران معاشی پابندیوں سے نکلنے کے لیے سفارتی راستہ چاہتا ہے، لیکن واشنگٹن کی ہٹ دھرمی خطے کو ایک بہت بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کا عین اسی وقت امریکی جوہری معاہدے پر دستخط کرنا جب روسی ایندھن کا جہاز پراسرار طور پر روک دیا گیا ہو، محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔
یہ عالمی سفارتکاری کی وہ چال ہے جو واضح کرتی ہے کہ امریکا اب جنوبی ایشیا میں روسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے نہایت جارحانہ اور اسٹرٹیجک اقدامات کر رہا ہے۔
یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک، وسائل اور بالا دستی کی ایک نئی سرد جنگ تیزی سے گرم ہو رہی ہے۔