مسلمان متحد ہوجائیں تو دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے، واشنگٹن سے مذاکرات پر اب کوئی بھروسہ نہیں،ایرانی صدر

مسلمان متحد ہوجائیں تو دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے، واشنگٹن سے مذاکرات پر اب کوئی بھروسہ نہیں،ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر اب اعتماد نہیں رہا، کیونکہ مذاکرات کے ہر دور کے بعد ایران کو حملوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تہران سے جاری بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران کا اعتماد بحال نہیں ہوسکاانہوں نے کہا کہ ماضی میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کی پاسداری نہ کیے جانے کے باعث واشنگٹن پر بھروسہ کرنا مشکل ہے۔

ایرانی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے حوالے سے بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسی ملاقات کا مقصد اور ضرورت سمجھ نہیں آتی، کیونکہ امریکا ماضی میں ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پاسداری نہیں کرچکا۔

آبنائے ہرمز کی بندش

مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر ایران کے لیے تجارتی راستے بند کیے جاتے ہیں تو آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک فطری ردعمل ہوگاتاہم ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بحران کا حل طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں اور ایران کے ساتھ طاقت کی زبان استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔

خطے میں بالادستی نہیں چاہتے

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران خطے میں کسی حکمران یا بالادست طاقت کا محتاج نہیں، جبکہ اسلامی ممالک کے ساتھ ایران کے برادرانہ تعلقات ہیں،انہوں نے کہا کہ  خطے میں سلامتی کے قیام کے لیے ممالک ایک دوسرے کی مدد اور باہمی تعاون کرسکتے ہیں۔

مسلم اتحاد پر زور

مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر مسلمان متحد ہوجائیں تو دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے،انہوں نے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو امن اور سلامتی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون کے ذریعے اجتماعی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

یمن ایران کا معاملہ نہیں

یمن کی صورتحال پر ایرانی صدر نے کہا کہ یمن ایران کا معاملہ نہیں، ایران صرف یمنی عوام کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے،انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران یمن میں جاری کارروائیوں میں عملی طور پر شریک ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایران کی نظر میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے۔

سعودی عرب کا کردار

مسعود پزشکیان نے سعودی عرب کو مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز بننے کی صلاحیت رکھنے والا ملک قرار دیا،انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نسبت سے سعودی عرب مسلم دنیا کو اجتماعی مسائل کے حل کے لیے یکجا کرسکتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی،ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کی تیل کی پائپ لائن پر اسرائیل نے خود حملہ کیا ہو تو اس میں حیرت کی بات نہیں ہوگی۔

editor

Related Articles