پاک بحریہ کے بیڑے میں نئی شامل ہونے والی آبدوز ’پی این ایس ہنگور‘ نے شمالی بحیرہ عرب میں اینٹی شپ کروز میزائل فائر کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اس شاندار اور کامیاب تجربہ پر پوری قوم خصوصاً پاک بحریہ کو مبارکباد دی ہے۔
اس شاندار لائیو ویپن فائرنگ نے طویل فاصلے پر موجود ہدف کو انتہائی درستی سے نشانہ بنا کر سمندری دفاع کو مزید مضبوط اور ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، 27 ستمبر 2026 کو ہونے والا یہ تجربہ پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کا ایک شاندار اور عملی مظاہرہ ہے۔
’پی این ایس ہنگور‘ نے اپنے پہلے لائیو ویپن فائرنگ ٹیسٹ میں اینٹی شپ کروز میزائل کے ذریعے جس مہارت سے ہدف کو تباہ کیا، وہ اس کی بے پناہ جنگی صلاحیت اور درستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کامیاب تجربہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سمندری حدود میں کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پاک بحریہ کی دفاعی مشینیں ہمہ وقت تیار ہیں۔
دفاعی عزم اور نیول چیف کا مشاہدہ
اس اہم دفاعی سنگ میل کے موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے میزائل فائرنگ کے اس شاندار مظاہرے کا خود مشاہدہ کیا۔
انہوں نے نئی آبدوز کی جنگی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے زیرِ آب (سب سرفیس) حربی صلاحیتوں کو بڑھانے کی اسٹرٹیجک اہمیت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سمندری ڈیٹرنس کو قابل بھروسہ اور مؤثر بنانے کے لیے ایسی جدید ٹیکنالوجی کا حصول ناگزیر ہے۔ یہ تجربہ اس عزم کا اعادہ ہے کہ پاک بحریہ قومی سمندری سرحدوں کی حفاظت اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے ایک جدید اور جنگ کے لیے تیار فورس کی صورت میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
پاک بحریہ کی تاریخ میں ’ہنگور‘ کا نام ایک خاص اور درخشاں باب رکھتا ہے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ’پی این ایس ہنگور‘ ہی وہ تاریخی آبدوز تھی جس نے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچاتے ہوئے بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز ’آئی این ایس کھکری‘ کو غرقاب کیا تھا۔
جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ موجودہ ’پی این ایس ہنگور‘ دراصل اسی تاریخی نام، طاقت اور جذبے کا تسلسل ہے۔
پاک بحریہ اپنے بیڑے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے طویل عرصے سے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت روایتی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس آبدوزیں بیڑے میں شامل کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی سمندری مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اسٹرٹیجک اہمیت اور طاقت کا توازن
شمالی بحیرہ عرب میں اس جدید ترین آبدوز کے کامیاب میزائل تجربے کو محض ایک معمول کی جنگی مشق نہیں سمجھا جا سکتا۔
موجودہ جغرافیائی اور سیاسی حالات میں بحر ہند کا خطہ بے پناہ اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں بڑی طاقتوں کی بحری سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
ایسے مسابقتی ماحول میں ’پی این ایس ہنگور‘ جیسی جدید ترین آبدوز کا اینٹی شپ کروز میزائل فائر کرنا ہر اس قوت کے لیے ایک واضح اور دو ٹوک پیغام ہے جو پاکستان کی بحری حدود پر میلی آنکھ ڈالنے کا سوچ سکتی ہے۔
زیرِ آب رہ کر طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی یہ صلاحیت نہ صرف پاکستان کی جوابی کارروائی کی قابلیت کو مضبوط کرتی ہے بلکہ علاقائی سطح پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی قلیدی کردار ادا کرے گی۔
یہ اہم پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ ملکی بحری حدود، بین الاقوامی تجارتی راستوں اور ساحلی تنصیبات کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔