مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بی جے پی بڑی شکست،ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور

مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بی جے پی بڑی شکست،ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور

جموں و کشمیر اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور کرلی گئیجبکہ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی احتجاج اور واک آؤٹ تک محدود رہی،یہ قرارداد نئی دہلی کے سامنے ایک واضح سیاسی مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاستی حیثیت دی جائے، کشمیر کی سیاسی آواز کو محض احتجاج اور رکاوٹ سے دبایا نہیں جا سکتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد پیش کی، جس میں نئی دہلی سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

قرارداد کو نیشنل کانفرنس، کانگریس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، پیپلز کانفرنس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، عام آدمی پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ارکان کی حمایت حاصل ہوئی،رپورٹس کے مطابق اسمبلی میں کسی رکن نے قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں :مقبوضہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا سخت موقف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 4 نکاتی عالمی لائحہ عمل پیش کردیا

قرارداد پر ووٹنگ سے قبل بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، بی جے پی ارکان نے قرارداد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور قرارداد کی نقول پھاڑ دیں،بی جے پی ارکان کے احتجاج کے بعد اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔

قرارداد میں نئی دہلی سے مطالبہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر کو اس کی مکمل ریاستی حیثیت واپس دی جائے، اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے بعد ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر خطے کی سیاست میں نمایاں ہوگیا ہے۔

دوسری جانب میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ آرٹیکل 370، آرٹیکل 35 اے اور سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے متحد ہوں،میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ کشمیری سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی حقوق کے معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے،جموں و کشمیر اسمبلی میں ہونے والی کارروائی نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں لا دیا ہے۔

editor

Related Articles