وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریے مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں، جبکہ معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے گزشتہ برسوں کے دوران بھرپور محنت کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت کی، جہاں پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے ڈوئل ٹرینچ یوروبونڈز کی لسٹنگ کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
لندن اسٹاک ایکسچینج آمد پر لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ شوئمر اور دیگر سینئر حکام نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ تقریب لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے ہیڈکوارٹر پیٹرنوسٹر اسکوائر میں منعقد ہوئی، جہاں مارکیٹ اوپن تقریب کے ذریعے لندن میں کاروباری دن کی ٹریڈنگ کا باقاعدہ آغاز کیا جاتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں مدعو ہونا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں کے دوران معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور محنت کی ہے اور ملک کے میکرو اکنامک اشاریے مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے یوروبانڈز کا حالیہ اجرا معاشی پیش رفت کی واضح مثال ہے اور یہ معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر خلیجی بحران درپیش نہ آتا تو پاکستان تیزی سے آگے بڑھ چکا ہوتا۔
وزیراعظم کی لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت کو پاکستان اور برطانیہ، بالخصوص لندن کے مالیاتی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
یوروبونڈز کیا ہیں؟
یوروبونڈ بنیادی طور پر کسی ملک یا ادارے کی جانب سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بیرون ملک کرنسی میں جاری کیا جانے والا قرضی سیکیورٹی آلہ ہوتا ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی عالمی مارکیٹ میں یوروبونڈز جاری کرکے مالی وسائل حاصل کرتا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے لندن اسٹاک ایکسچینج کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ لندن دنیا کے بڑے عالمی مالیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور لندن اسٹاک ایکسچینج پر کسی ملک کے بانڈز کی لسٹنگ بین الاقوامی سرمایہ کاروں تک رسائی کا ایک ذریعہ بنتی ہے۔
حالیہ 3 ارب ڈالر کے ڈوئل ٹرینچ یوروبونڈز کے اجرا کا مطلب ہے کہ پاکستان نے دو مختلف مدتوں کے بانڈز کے ذریعے عالمی مارکیٹ سے فنڈز حاصل کیے۔ ایسے بانڈز کے اجرا میں سرمایہ کاروں کی طلب، شرحِ منافع اور عالمی مالیاتی حالات پاکستان کے لیے قرض کی لاگت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
وزیراعظم کی تقریب میں شرکت کے حوالے سے حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے پاکستان کے مالیاتی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں لندن کے اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط ہوں گے۔