وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ حکومت کی ترجیح نہیں، تاہم اگر صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے وفاقی حکومت کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھتی ہے تو آئین میں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے راستہ موجود ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اب بھی ترجیح یہی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت غیر آئینی اقدامات سے گریز کرنے کی یقین دہانی کرائے تو ایمرجنسی کے نفاذ کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم اگر صورتحال برقرار رہتی ہے تو وفاقی حکومت آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے اقدامات کرسکتی ہے۔
امن و امان پر توجہ کا مطالبہ
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور شہریوں سمیت سیکیورٹی اہلکاروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں اور ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، رانا ثنااللہ نے واضح کردیا
لانگ مارچ پر تنقید
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی توجہ امن و امان کے بجائے لانگ مارچ کی تیاریوں پر مرکوز ہے اور گزشتہ آٹھ ماہ سے اسی مقصد کے لیے تیاری کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف خیبرپختونخوا میں شہری اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار جانیں گنوا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت دوسرے صوبے میں جاکر لانگ مارچ کی تیاری کررہی ہے۔
عمران خان کی رہائی سے متعلق مؤقف
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالتوں کے ذریعے قانونی راستے سے رہائی مل سکتی ہے، اسلام آباد پر چڑھائی کے ذریعے نہیں،انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائی آئین اور قانون کے مطابق نہیں اور اگر صوبائی حکومت اسی مؤقف پر قائم رہتی ہے تو وفاق اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گا۔
ایمرجنسی کا فیصلہ کیسے ہوگا؟
رانا ثنا اللہ کے مطابق ایمرجنسی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی، جبکہ اس سے پہلے صدر مملکت اور کابینہ سے مشاورت کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ آئین میں مختلف راستے موجود ہیں، جن میں صوبے میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنا یا بعض اختیارات گورنر کو منتقل کرنا بھی شامل ہے۔
حکومت اور اپوزیشن میں رابطہ
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ تحریک انصاف کے ساتھ آف دی ریکارڈ بات چیت جاری ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کو دو مرتبہ خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے،انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہیں تو وہ کل بھی ملاقات کرسکتے ہیں۔
مذاکرات بھی ایک آپشن
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ سیاسی مذاکرات بھی ایک راستہ ہیں، تاہم دہشتگردی اور امن و امان کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں بہرحال پوری کرنا ہوں گی۔


