پی ٹی آئی کا ٹی ٹی پی اور ڈرگ مافیا سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا، انسدادِ دہشتگردی کے 700 ارب روپے لانگ مارچوں پر لٹا دیے گئے، عاصمہ ارباب عالمگیر

پی ٹی آئی کا ٹی ٹی پی اور ڈرگ مافیا سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا، انسدادِ دہشتگردی کے 700 ارب روپے لانگ مارچوں پر لٹا دیے گئے، عاصمہ ارباب عالمگیر

پاکستان پیپلز پارٹیِ(پی پی پی ) کی رکن قومی اسمبلی عاصمہ ارباب عالمگیر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) پر دہشتگردوں اور ڈرگ مافیا کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انسدادِ دہشتگردی کے لیے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں ملنے والے 700 ارب روپے عوامی تحفظ کے بجائے سیاسی لانگ مارچوں پر اڑا دیے گئے۔

’آزاد ڈیجیٹل‘ کے نمائندے کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں عاصمہ ارباب عالمگیر نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن خاندانوں نے دہشتگردی کی جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دی ہیں، آج ان کے لیے یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے۔

پی ٹی آئی گزشتہ 13 برسوں سے صوبے پر قابض ہے اور اس طویل اقتدار نے خیبر پختونخوا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پولیس ایکٹ، افغان پالیسی اورکالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق وفاق کے 9 نکات پر پی ٹی آئی نے یوٹرن لے کر مذاکرات ثبوتاژ کیے، محسن نقوی نے تفصیلات جاری کردیں

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کا کالعدم تنظیموں اور ڈرگ مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

18 ویں ترمیم کے تحت مکمل اختیارات رکھنے والی یہ حکومت مبینہ طور پر صرف غیر قانونی کاموں اور ذاتی مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے۔

700 ارب روپے کا غبن اور تحقیقات کا مطالبہ

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 17 سالوں کے دوران این ایف سی ایوارڈ کی مد میں خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کی روک تھام کے لیے 700 ارب روپے سے زیادہ کے فنڈز موصول ہوئے۔ اگر یہ خطیر رقم واقعی امن و امان پر خرچ ہوتی تو آج صوبے کا ہر ضلع دہشتگردی کی لپیٹ میں نہ ہوتا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ تمام پیسہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچوں اور سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ وائٹ پیپر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئینی عدالتوں اور متعلقہ اداروں کو اس سنگین مالی بے ضابطگی کی فوری اور شفاف تحقیقات کرنی چاہییں۔

ملکی سلامتی اور سیاسی ترجیحات کا تصادم

احتجاج اور دھرنوں کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے پی پی رہنما نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موجودہ حالات کے پیشِ نظر بارہا صوبائی حکومت کو خبردار کیا تھا۔

انہوں نے جماعت اسلامی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب انہیں وزیراعظم کی جانب سے ملکی سرحدوں پر موجود خطرات اور دشمن ممالک کی سازشوں سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے قومی مفاد کو ترجیح دی۔

تاہم پی ٹی آئی قیادت ایک شخص کو جیل سے نکالنے کے لیے کروڑوں عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان کی اصل وفاداریاں ریاست کے ساتھ ہیں یا کسی اور کے ساتھ؟

سیکیورٹی جوانوں کے تحفظ کے لیے گاڑیاں لینے سے انکار

صوبے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے عاصمہ ارباب نے انکشاف کیا کہ ماضی میں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تحفظ کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئیں تو پی ٹی آئی حکومت نے انہیں لینے سے انکار کر دیا۔

اگر وہ گاڑیاں استعمال کی جاتیں تو آج سیکیورٹی جوانوں کی شہادتوں میں واضح کمی لائی جا سکتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک ’نو گو ایریا‘ بن چکا ہے، جس سے ملک کی معیشت اور عالمی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

مزید پڑھیں:نہ ٹینٹ، نہ کرسیاں اور نہ سایہ، ضلعی عہدیداروں کے بلند و بانگ دعوے ٹھس، پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گنڈی چوک‘ میں ہی ہوا نکل گئی

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشتگردی سے شدید متاثرہ صوبہ رہا ہے۔ اس قربانی کے اعتراف میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو قابلِ تقسیم محاصل میں سے ایک فیصد اضافی حصہ انسدادِ دہشتگردی اور سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے دیا جاتا رہا ہے۔

پی ٹی آئی 2013 سے صوبے میں برسرِ اقتدار ہے، تاہم حالیہ کچھ عرصے سے صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اسی دوران وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان فنڈز کی منتقلی اور ان کے شفاف استعمال پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں مسلسل یہ الزام عائد کر رہی ہیں کہ صوبائی وسائل کو وفاق کے خلاف سیاسی محاذ آرائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی منظر نامے کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے اقدامات ریاستی رٹ کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز پر اٹھنے والے سوالات محض ایک سیاسی الزام تراشی نہیں، بلکہ یہ صوبائی وسائل کی ترجیحات اور گورننس کے ماڈل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔

مزید پڑھیں:انتشاری ٹولے کو کوئی معافی ملے گی نہ راستہ، رانا ثنا ء اللہ کی پی ٹی آئی کو سخت وارننگ

جب کسی خطے میں انسدادِ دہشتگردی کے وسائل مبینہ طور پر سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھ جائیں، تو وہاں ریاست مخالف عناصر اور کالعدم تنظیموں کو پنپنے کا قدرتی موقع مل جاتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید آلات اور بلٹ پروف گاڑیوں سے محروم رکھنا ظاہر کرتا ہے کہ سیکیورٹی کو وہ ادارہ جاتی اہمیت نہیں دی گئی جس کی حالتِ جنگ میں ضرورت ہوتی ہے۔

اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ملکی سلامتی کے اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ان فنڈز کے استعمال کا ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ آڈٹ کیا جائے، تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی مصلحتوں کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔

Related Articles