عمران خان کی رہائی اور علاج کیلئے آرٹیکل 10-A اور رول 197 میں طریقہ موجود، پھر لانگ مارچ کیوں؟

عمران خان کی رہائی اور علاج کیلئے آرٹیکل 10-A اور رول 197 میں طریقہ موجود، پھر لانگ مارچ کیوں؟

عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کے اعلان نے قانون کی بالادستی اور عدالتی عمل کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں ان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں موجود ہیں اور ان کی رہائی کے لیے آئین و قانون میں واضح عدالتی راستے موجود ہونے کے باوجود سڑکوں پر دباؤ کے ذریعے رہائی حاصل کرنے کی کوشش کو قانونی طریقہ کار سے انحراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آئین کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کا حق دیتا ہے جس کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ کسی فوجداری مقدمے کا فیصلہ عدالت کرے۔ ضمانت، اپیل، سزا کی معطلی یا دیگر قانونی ریلیف بھی متعلقہ عدالت سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔ ایسے میں عدالت کے بجائے لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈال کر کسی زیرِ سماعت مقدمے میں مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش قانون کی حکمرانی کے اصول پر سوال اٹھاتی ہے اور یہ مطالبہ غیر قانونی ہے

دوسری جانب عمران خان کے علاج کے معاملے میں بھی جیل قوانین میں باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔ پاکستان پریزن رولز کے رول 197 کے تحت قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے اور علاج فراہم کرنے کے لیے طبی ضرورت اور مجاز حکام کے ذریعے مقررہ طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سیاسی دباؤ کے ذریعے کسی مخصوص قیدی کے لیے اس کی مرضی کے مطابق علاج یا ہسپتال کی سہولت کا مطالبہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی، آئین کے آرٹیکل 129، 148 اور 149 سے انحراف کے سوالات

یوں عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کا معاملہ محض سیاسی احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ قانون بمقابلہ سیاسی دباؤ کی بحث بن گیا ہے۔ جب رہائی کے لیے عدالت موجود ہے اور علاج کے لیے جیل قوانین میں طریقہ کار موجود ہے تو سوال یہ ہے کہ ان قانونی راستوں کو اختیار کرنے کے بجائے لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر دباؤ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟

قانون کی حکمرانی کا اصول یہی ہے کہ ایک قیدی کے لیے بھی وہی قانونی راستہ اختیار کیا جائے جو قانون مقرر کرتا ہے اگر سیاسی دباؤ کے ذریعے عدالت اور جیل قوانین میں موجود طریقہ کار کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی جائے تو اس کے نتیجے میں قانون کی یکساں عملداری اور ریاستی اداروں کے اختیار کے بارے میں بنیادی سوالات ضرور اٹھیں گے۔

یوں عمران خان کی رہائی اور علاج کے مطالبات کے ساتھ ایک بنیادی سوال جڑ گیا ہے کہ جب آئین کا آرٹیکل 10-A عدالتی عمل کا راستہ فراہم کرتا ہے اور پریزن رول 197 علاج و ہسپتال منتقلی کا طریقہ واضح کرتا ہے تو پھر ان معاملات کے لیے لانگ مارچ کیوں؟

Qaisar Mirza
editor

Related Articles