سہیل آفریدی کی اپنی ہی حکومت کے خلاف اپنی ہی اسمبلی کے سامنے دھرنا

سہیل آفریدی کی اپنی ہی حکومت کے خلاف اپنی ہی اسمبلی کے سامنے دھرنا

پشاور میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر ایک غیر معمولی سیاسی صورتحال اس وقت سامنے آئی جب احتجاج کرنے والی حکومت کے خلاف اپنے ہی صوبے کے  افراد نے احتجاج کیا اوردھرنا دے دیا۔ اسمبلی کے سامنے ہونے والے احتجاج نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور حکمرانی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے۔

احتجاج کا منظر اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت تحریک انصاف کی ہے، جبکہ اسمبلی کے باہر اسی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

کارکردگی کے دعوے

ایک طرف صوبائی حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں کارکردگی کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب عوامی سطح پر احتجاج اور شکایات کا سلسلہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ اسمبلی کے باہر ہونے والا دھرنا اسی صورتحال کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

عوام سڑکوں پر

احتجاج کے باعث اسمبلی کے اطراف سیاسی سرگرمی میں بھی اضافہ ہوا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے مسائل پر توجہ دی جائے اور حکومت عملی اقدامات کرے۔ دھرنے کے دوران حکومت سے متعلق مختلف تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔

حکمرانی پر سوال

خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج نے پی ٹی آئی کے طرزِ حکمرانی پر سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر حکومتی دعووں کے باوجود عوام کو اپنے مسائل کے لیے سڑکوں پر آنا پڑ رہا ہے تو صوبائی حکومت کو اپنی پالیسیوں اور انتظامی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔

سیاسی نقصان کا خدشہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اپنی ہی حکومت کے خلاف ہونے والا احتجاج کسی بھی جماعت کے لیے سیاسی طور پر اہم پیغام رکھتا ہے، کیونکہ اس سے حکومت اور عوام کے درمیان رابطے، مسائل کے حل اور انتظامی کارکردگی سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

پشاور میں اسمبلی کے باہر سامنے آنے والا یہ منظر اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ حکومت کے دعووں اور سڑکوں پر موجود عوامی احتجاج کے درمیان واضح تضاد دکھائی دے رہا ہے، جس نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال کو ایک بار پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے جبکہ صوبائی حکومت خود لانگ مارچ میں مصروف ہے ۔

editor

Related Articles