ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے امکان پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا پر کسی صورت مکمل اعتماد نہیں کرسکتا۔ایرانی صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران بھی امریکا ایران پر حملے کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جب بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے تو اسے جنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مسعود پزشکیان نے موجودہ صورتحال میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی قرار دیا۔
مذاکرات یا حملہ؟
ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ امریکا مذاکرات کے نام پر ایران کے خلاف اپنے اقدامات جاری رکھتا ہے۔ان کے مطابق بات چیت کا عمل شروع ہونے کے باوجود ایران کو عسکری کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
پزشکیان نے کہا کہ ایسے فریق کے ساتھ مذاکرات کرنا آسان نہیں جس کے اقدامات پر اعتماد نہ ہو۔
انہوں نے امریکا کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ بات چیت کے حوالے سے بنیادی مسئلے کی نشاندہی بھی کی۔ان کے مطابق مسئلہ صرف مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا نہیں بلکہ امریکی ارادوں پر اعتماد کا ہے۔
تین حملوں کا دعویٰ
مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا ایران پر تین مرتبہ حملہ کرچکا ہے۔ایرانی صدر نے ان حملوں کو امریکا کے خلاف اپنے مؤقف کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران بار بار مذاکرات کی طرف آتا ہے لیکن اسے عسکری کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پزشکیان کے مطابق ایسے حالات میں مذاکرات کے مقصد اور نتائج پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسے فریق پر اعتماد نہیں کرسکتا جس کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی حملے ہوں۔
حکومت گرانے کا الزام
ایرانی صدر نے امریکا پر ایک سنگین الزام بھی عائد کیا۔مسعود پزشکیان کے مطابق امریکا مذاکرات نہیں بلکہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔
انہوں نے امریکی پالیسی کو صرف سفارتی دباؤ تک محدود سمجھنے سے انکار کیا۔
پزشکیان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ارادوں کو انتہائی شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ایرانی صدر نے واضح کیا کہ اعتماد کے بغیر مذاکرات کا عمل نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد
پزشکیان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے براہِ راست مذاکرات کی آمادگی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہونے کا کہا تھا۔
دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں مذاکرات کا ذکر موجود ہے۔تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران اب بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
امریکی صدر مذاکرات کی بات کر رہے ہیں جبکہ ایرانی صدر واشنگٹن کے ارادوں پر ہی سوال اٹھا رہے ہیں۔
یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔فی الحال پزشکیان کے بیان سے واضح ہے کہ تہران مذاکرات سے پہلے امریکی اقدامات اور نیت کو بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے۔