گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر سخت سیاسی تنقید کی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ مشکل وقت آتے ہی پی ٹی آئی قیادت کارکنوں کو آگے کر دیتی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قیادت خود پیچھے ہٹ جاتی ہے اور کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے یہ بیان سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی یارک ٹول پلازہ سے واپسی کے معاملے پر دیا۔
دفعہ 144 کا معاملہ
فیصل کریم کنڈی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گنڈاپور واپس جاتے ہوئے کارکنوں کو دفعہ 144 کا بتا رہے تھے۔
گورنر نے دعویٰ کیا کہ دفعہ 144 ڈی آئی خان کے مخصوص علاقوں میں مخصوص اوقات کے لیے نافذ تھی۔
انہوں نے کہا کہ یارک ٹول پلازہ ان مخصوص علاقوں میں شامل نہیں تھا جہاں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ متعلقہ نوٹیفکیشن سب کے سامنے موجود ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر اپنے کارکنوں کو گمراہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
قیادت پر تنقید
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت اپنے ہی کارکنوں کو بے وقوف بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔
انہوں نے موجودہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے بھی سخت سیاسی جملہ استعمال کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سہیل آفریدی کو چلانے والا ہی بھگوڑا ہے۔
گورنر نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا نام لیے بغیر ان کے سیاسی کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
پرانے رویے کا الزام
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بھاگنے کی عادت نئی نہیں بلکہ پرانی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مشکل حالات میں کارکنوں کو آگے کرکے قیادت خود پیچھے ہٹ جاتی ہے۔
گورنر نے اپنے بیان میں پی ٹی آئی قیادت کے طرز سیاست پر سوالات اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو مشکل حالات میں اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
تاہم فیصل کریم کنڈی کے بیان میں زیادہ زور علی امین گنڈاپور کی واپسی اور دفعہ 144 کے معاملے پر تھا۔
گھوڑے والی مثال
گورنر خیبر پختونخوا نے اپنی تنقید کو ایک طنزیہ مثال کے ذریعے بھی بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ ناچنے والے گھوڑے میدان میں نہیں دوڑتے۔
فیصل کریم کنڈی کا یہ جملہ سیاسی مخالفین کے طرز عمل پر طنزیہ تبصرے کے طور پر سامنے آیا۔
دفعہ 144 کے نفاذ کی حدود اور علی امین گنڈاپور کی واپسی سے متعلق فیصل کریم کنڈی کے دعوے سیاسی بحث کا نیا موضوع بن گئے ہیں۔