لانگ مارچ میں راستے بند، ایمبولینسیں بھی پھنس گئیں، مریضوں کو اسپتال پہنچنے کے لیے راستہ نہ مل سکا
پاکستان تحریک انصاف کے آج کے لانگ مارچ کے دوران راستوں کی بندش کے باعث عام شہریوں کے ساتھ مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، متعدد ایمبولینسیں سڑکوں پر پھنس گئیں اور انہیں اسپتال پہنچنے کے لیے راستہ نہیں دیا گیا۔
لانگ مارچ اور احتجاج کے باعث سڑکیں بند ہونے سے ایمبولینسوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔ مریضوں کو اسپتال لے جانے والی ایمبولینسیں راستوں میں پھنس گئیں جبکہ انہیں گزرنے دینے کے لیے لوگ احتجاج کرنے والوں سے منت سماجت کرتے رہے۔
مریضوں کے اہل خانہ اور دیگر شہریوں کی جانب سے بار بار راستہ دینے کی درخواست کی گئی، تاہم احتجاج کے باعث بند راستوں سے ایمبولینسوں کو گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
آج کے لانگ مارچ کے دوران سامنے آنے والے مناظر میں سڑکوں پر پھنسی ایمبولینسیں اور ان کے لیے راستہ کھولنے کی کوششیں بھی دیکھنے میں آئیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ احتجاج کے باعث مریضوں کو اسپتال پہنچانے کا عمل کس قدر متاثر ہوا۔
ایمبولینس کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ نہیں ہوتی، اس میں موجود مریض کو بروقت طبی امداد اور اسپتال تک رسائی درکار ہوتی ہے۔ ایسے میں راستے بند ہونے کے باعث ایمبولینس کا رک جانا مریض اور اس کے اہل خانہ کے لیے انتہائی مشکل صورتحال پیدا کردیتا ہے۔
لانگ مارچ کے باعث سڑکوں کی بندش سے صرف عام ٹریفک ہی متاثر نہیں ہوئی بلکہ اسپتال جانے والے مریض اور انہیں لے جانے والی ایمبولینسیں بھی راستوں میں پھنس گئیں۔
آج کے احتجاج کے دوران ایمبولینسوں کو راستہ نہ ملنے کے مناظر نے ایک اہم سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ سیاسی احتجاج کے دوران ہنگامی طبی امداد کے لیے آنے جانے والی ایمبولینسوں کو راستہ کیوں نہیں مل سکا؟
شہریوں کی جانب سے ایمبولینسوں کو گزرنے دینے کے لیے منت سماجت کے مناظر نے لانگ مارچ کے دوران راستوں کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔