سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی یا عوامی لاتعلقی؟ لانگ مارچ کا کیمپ ویران ہوگیا

سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی یا عوامی لاتعلقی؟ لانگ مارچ کا کیمپ ویران ہوگیا

خیبرپختونخوا میں جاری لانگ مارچ کے حوالے سے بڑے دعووں کے برعکس زمینی صورتحال نے مختلف سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ پشاور میں قائم لانگ مارچ کا کیمپ خالی ہوگیا جبکہ باڑہ میں بھی بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت کے دعوے چند سو افراد تک محدود دکھائی دیے۔

لانگ مارچ کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کر رہے ہیں، تاہم مارچ کے مختلف مراحل میں قیادت اور کارکنوں کی موجودگی کے حوالے سے صورتحال تسلی بخش نظر نہیں آرہی۔ پشاور کا کیمپ خالی ہونا اس بات کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کے دعوے عملی میدان میں پورے نہیں ہوسکے۔

باڑہ میں موجود کارکنوں کو بھی بنیادی سہولیات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض کارکن انتظامات اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے منتظر ہیں، جبکہ دوسری جانب لانگ مارچ کو آگے بڑھانے کے لیے قیادت کی جانب سے مسلسل اصرار کیا جا رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف خیبرپختونخوا کے عوام کو تعلیم، صحت، امن و امان اور روزمرہ انتظامی مسائل کا سامنا ہے، دوسری جانب صوبائی حکومت کی قیادت سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران پر دوبارہ حملوں کی تیاری، امریکی فوج کو تیار رہنے کا حکم

لانگ مارچ کے باعث مختلف شاہراہوں پر آمدورفت متاثر ہونے، کاروباری سرگرمیوں میں خلل اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سیاسی سرگرمی کسی جماعت کا حق ہوسکتی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ جاری رکھنے پر اصرار کے باوجود شرکاء کی محدود تعداد نے سیاسی قیادت کے سامنے ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے کہ اگر عوامی حمایت اتنی وسیع ہے تو مختلف مقامات پر بڑے اجتماعات کیوں دکھائی نہیں دے رہے۔

پشاور کے کیمپ کا خالی ہونا اور باڑہ میں محدود تعداد میں کارکنوں کی موجودگی لانگ مارچ کی مقبولیت کے دعووں پر بھی سوال اٹھا رہی ہے۔ دوسری جانب کارکنوں کی جانب سے سہولیات کے انتظار کی اطلاعات نے مارچ کے انتظامات پر بھی سوالات پیدا کردیئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ صرف قیادت کے بیانات سے نہیں بلکہ زمینی صورتحال، عوامی شرکت اور اس کے نتیجے میں عام شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات سے بھی لگایا جائے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری یہ لانگ مارچ محدود شرکت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے یا قیادت زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے آئندہ لائحہ عمل پر نظرثانی کرتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles