ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی خبروں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر بے چینی پیدا کردی ہے، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سرمایہ کار اب یہ دیکھنے میں مصروف ہیں کہ واشنگٹن تہران کے خلاف واقعی کوئی بڑا قدم اٹھاتا ہے یا یہ صرف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے ، جاپان، جنوبی کوریا، چین، ہانگ کانگ، تائیوان اور بھارت کی اسٹاک مارکیٹس میں حصص کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہیں ، خطے کے سرمایہ کاروں میں خدشہ ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔
ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کیوں آئی؟
رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی حملے کی تیاری سے متعلق خبروں کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے ، اس صورتحال میں ایشیائی مارکیٹس میں فروخت کا رجحان نمایاں ہوا۔
دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت 2 ڈالر اضافے کے بعد 102.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اس اضافے نے عالمی معیشت کے لیے نئی تشویش پیدا کردی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تیل کی سپلائی اور ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
پینٹاگون کی تیاری
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ممکنہ صورتحال کے لیے تیاریاں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے، اس پیش رفت نے ایران پر ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق کارروائی نومبر سے پہلے بھی ہوسکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
3 نومبر کی تاریخ کیوں اہم ؟
امریکا میں مڈٹرم انتخابات 3 نومبر کو ہونے ہیں اسی وجہ سے ایران سے متعلق کسی بھی بڑے امریکی فیصلے کو عالمی منڈیاں اور سیاسی حلقے خاص توجہ سے دیکھ رہے ہیں ، اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات تیل کی قیمتوں، عالمی اسٹاک مارکیٹس، مہنگائی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑ سکتے ہیں بالخصوص ایشیائی معیشتیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوسکتی ہیں۔
پاکستان پر کیا اثر
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے اہم مسئلہ بن سکتا ہے ، تیل مہنگا ہونے کی صورت میں درآمدی بل بڑھنے کے ساتھ مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آسکتا ہے۔
فی الحال سب کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے اگلے قدم پر ہیں ، اگر حملے کی خبریں عملی کارروائی میں بدلتی ہیں تو عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ اگر کشیدگی کم ہوتی ہے تو سرمایہ کاروں کا دباؤ بھی کچھ کم ہوسکتا ہے۔