عالمی مقابلے میں پاکستانی طلبہ کا شاندار کارنامہ، سائنسی شعبوں میں 17 بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں تیسری پوزیشن اپنے نام کرلی

عالمی مقابلے میں پاکستانی طلبہ کا شاندار کارنامہ، سائنسی شعبوں میں 17 بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں تیسری پوزیشن اپنے نام کرلی

پاکستان کی ’نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ (نسٹ) کی فارمولا اسٹوڈنٹ ٹیم نے ’فارمولا اسٹوڈنٹ ترکیہ 2026‘ کے عالمی مقابلے میں مجموعی طور پر تیسری پوزیشن حاصل کر کے ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔ 

اس تاریخی کامیابی میں کاسٹ اینڈ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 100 فیصد نمبروں کے ساتھ پہلی پوزیشن بھی شامل ہے جو بین الاقوامی فورم پر پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

یونیورسٹی حکام کے مطابق ترکیہ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی آٹوموٹیو انجینبئرنگ مقابلے ’فارمولا اسٹوڈنٹ ترکیہ 2026‘ میں پاکستانی طلبا نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ہارورڈ ماڈل یونائیٹڈ نیشنز چائنا، 70 غیر ملکی وفود میں پاکستانی طلبہ کا راج، شاندار کامیابیوں نے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا

اس کڑے اور اعصاب شکن ایونٹ میں دنیا بھر سے 17 مختلف ممالک کی بہترین ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔ ان تمام عالمی حریفوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے، ’نسٹ‘ کی فارمولا اسٹوڈنٹ ٹیم نے مختلف کیٹیگریز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایونٹ کی مجموعی رینکنگ میں تیسرا نمبر حاصل کیا۔

ٹیم کی سب سے بڑی اور حیران کن کامیابی کاسٹ اینڈ مینوفیکچرنگ یعنی لاگت اور پیداواری عمل کی کیٹیگری میں سامنے آئی، جہاں پاکستانی طلباء نے 80 میں سے پورے 80 نمبرز لے کر پہلی پوزیشن اپنے نام کی۔

علاوہ ازیں، اس باصلاحیت ٹیم نے انجینیئرنگ ڈیزائن میں تیسری جبکہ بزنس پلان پریزنٹیشن کے شعبے میں پانچویں پوزیشن حاصل کی، جو ان کی ہمہ گیر مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

فارمولا اسٹوڈنٹ مقابلے

’فارمولا اسٹوڈنٹ‘ دنیا بھر میں انجینئرنگ کے طلباء کا ایک انتہائی مقبول اور مسابقتی ایونٹ مانا جاتا ہے۔ اس مقابلے میں جامعات کے طلباء کو ایک چھوٹی فارمولا طرز کی ریسنگ کار کا تصور پیش کرنے، اسے ڈیزائن کرنے اور پھر خود تیار کرنے کا کٹھن چیلنج دیا جاتا ہے۔

ان مقابلوں کا بنیادی مقصد محض گاڑی دوڑانا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں گاڑی کی مکینیکل انجینیئرنگ، اس پر آنے والی لاگت، مسافر کی حفاظت کے معیار اور مستقبل میں اس گاڑی کی فروخت کے لیے مؤثر کاروباری حکمت عملی کو بھی جانچا جاتا ہے۔ ان کڑی شرائط پر پورا اتر کر عالمی سطح پر پوزیشن حاصل کرنا کسی بھی ملک کے تعلیمی معیار کی بلندی کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی سطح پر پاکستان کے لیے باعثِ فخر لمحہ

بین الاقوامی سطح پر اتنے بڑے ایونٹ میں دنیا کی نامور جامعات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنا بلا شبہ پاکستان کے لیے فخر کا مقام ہے۔

مزید پڑھیں:وزیرِ تعلیم پنجاب خود کلاس روم میں پہنچیں گے، بچوں کو انگلش اور کیمسٹری پڑھانے کا اعلان

’نسٹ‘ کے طلباء نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اگر درست رہنمائی اور پلیٹ فارم مہیا کیا جائے، تو پاکستانی نوجوانوں میں عالمی سطح پر ابھرنے اور اپنا لوہا منوانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

صلاحیتوں کا اعتراف اور مستقبل کے امکانات

اس کامیابی کے تکنیکی اور معاشی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام بتدریج عملی اور اطلاقی علوم کی جانب کامیابی سے گامزن ہے۔

خاص طور پر کاسٹ اینڈ مینوفیکچرنگ جیسی پیچیدہ کیٹیگری میں پورے نمبرز حاصل کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستانی طلباء صرف کتابی علم تک محدود نہیں، بلکہ وہ مارکیٹ کی حرکیات، لاگت کے تخمینے اور پیداواری اصولوں سے بھی پوری طرح لیس ہیں۔

یہ کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ اگر ان نوجوانوں کو حکومتی سرپرستی اور ملکی صنعتی شعبے کا بھرپور تعاون میسر آئے، تو یہی طلبا مستقبل میں مقامی آٹوموٹیو انڈسٹری میں انقلاب برپا کر کے ملکی معیشت کو جدید اور مستحکم خطوط پر استوار کر سکتے ہیں۔

Related Articles