خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جلسے کے دوران کے پی کے وزیر اطلاعات و نشریات شفیع جان سے بحث کرنے والے ایس ایچ او کو گن مین سمیت خارجی دہشتگردوں نے شہید کر دیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد عوام اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شفیع جان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا شدید مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
فرض شناس افسر کی المناک شہادت
پولیس حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں فرائض کی انجام دہی میں مصروف پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا ہے۔ اس اچانک اور جان لیوا حملے کے نتیجے میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) داؤد خان اور ان کا ایک گن مین کانسٹیبل فرہاد گولیاں لگنے سے شہید ہو گئے ہیں۔
کرک جلسے کے دوران شفیع جان کے ساتھ بحث کرنے والے ایس ایچ او کو آج دھشت گردوں نے گنر سمیت شہید کردیا 🚨
کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ پی ٹی آئی اور دھشت گرد ایک ٹیم نہیں ؟
خارجی دھشت گردوں نے شفیع جان کے ساتھ جلسے کے دوران بحث کرنے والے ایس ایچ او کو نشانہ بنا دیا۔
اس کی ایف آئی آر شفیع جان کر درج ہونی چاہئیں
واضح رہے کہ یہ وہی فرض شناس ایس ایچ او تھے جن کی حال ہی میں ’پاکستان تحریک انصاف‘ (پی ٹی آئی) کے ایک جلسے کے دوران سیاسی رہنما شفیع جان کے ساتھ کسی مسئلے پر شدید بحث و تکرار ہوئی تھی۔
سوشل میڈیا پر طوفان اور عوامی مطالبات
اس لرزہ خیز واقعے کی اطلاع ملتے ہی عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک باقاعدہ طوفان برپا ہو گیا ہے۔ صارفین اور عام شہری اس سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ ایک سرکاری افسر کو سیاسی رہنما سے الجھنے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد یوں نشانہ بنایا جانا محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا۔
عوام کی جانب سے دوٹوک مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ چونکہ خارجی دہشتگردوں نے جان بوجھ کر اسی افسر کو ٹارگٹ کیا ہے، لہٰذا اس اندوہناک قتل کی باقاعدہ ایف آئی آر شفیع جان کے خلاف درج ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے آج تک دہشتگردوں مذمت تو دور کی بات، ہمیشہ ان کی حمایت کی ہے۔
سیاسی جماعت اور دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ پر سوالات
اس افسوسناک واقعے نے ایک نئی اور انتہائی سنگین بحث کو جنم دیا ہے۔ عوام اب کھلے عام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس قتل کے بعد کیا یہ بات حتمی طور پر ثابت نہیں ہو جاتی کہ ’پی ٹی آئی‘ اور دہشتگرد عناصر مبینہ طور پر ایک ہی ٹیم ہیں؟
شہریوں کا مؤقف ہے کہ جلسے میں پولیس افسر کو دباؤ میں لانے اور اس کے بعد اسے ابدی نیند سلا دینے کے اس واقعے کے بعد اب کسی کو اس گٹھ جوڑ کے حوالے سے کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا گزشتہ کچھ عرصے سے دہشتگردی کی ایک نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے جس میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز مسلسل شرپسندوں کے نشانے پر ہیں۔
حال ہی میں ضلع کرک میں منعقد ہونے والے ’پی ٹی آئی‘ کے ایک جلسے کے دوران سیکیورٹی اور ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے معاملات پر متعلقہ ایس ایچ او اور شفیع جان کے مابین شدید تلخ کلامی ہوئی تھی۔
اس بحث کے دوران پولیس افسر کو اپنے قانونی فرائض کی ادائیگی میں سیاسی دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال
موجودہ ملکی حالات اور صوبے میں جاری شورش کے تناظر میں اس واقعے کی ٹائمنگ اور نوعیت کئی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔
جب بھی کوئی ریاستی اہلکار کسی سیاسی یا بااثر شخصیت کے ساتھ تنازع کا شکار ہونے کے فوراً بعد دہشتگردی کا نشانہ بنتا ہے، تو اس سے ریاستی عملداری کمزور پڑتی ہے اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا ہوتا ہے۔
اس طرح کے واقعات میں مقامی سطح پر موجود سیاسی کشیدگی اور خارجی دہشتگردوں کی کارروائیوں کے درمیان مبینہ روابط کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قتل کی تمام زاویوں سے انتہائی شفاف اور تیز ترین تحقیقات کریں، تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جا سکے اور قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرنے والے تمام کرداروں کو بے نقاب کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔