سالوں کی تاریخی رقابت ختم؟ رونالڈو کا میسی کے لیے بڑا پیغام

سالوں کی تاریخی رقابت ختم؟ رونالڈو کا میسی کے لیے بڑا پیغام

پرتگال کے کپتان اور عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی دنیا کی سب سے بڑی حریفوں میں شمار ہونے والی اپنی اور لیونل میسی کی رقابت کو ایک طرف رکھتے ہوئے ارجنٹائن کے عظیم فٹبالر کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

لیونل میسی کی جانب سے بین الاقوامی فٹبال سے جذباتی ریٹائرمنٹ کے بعد رونالڈو نے اپنے دیرینہ حریف کے شاندار کیریئر اور فٹبال کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے زائد عرصے کے دوران مقابلہ فٹبال کی تاریخ کے یادگار ترین ابواب میں شمار کیا جاتا ہے۔

39 سالہ لیونل میسی نے ارجنٹائن کی جانب سے اپنا آخری بین الاقوامی میچ بینن کے خلاف کھیلا، جس میں ارجنٹائن نے 3-0 سے کامیابی حاصل کی۔ میسی نے اس میچ میں ایک گول اسکور کیا جبکہ دو گولوں میں معاونت فراہم کی۔

بیونس آئرس کے مونومینٹل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس الوداعی میچ کے موقع پر 85 ہزار سے زائد شائقین نے شرکت کی اور میسی کو قومی ٹیم کی جرسی میں آخری بار میدان میں دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم کھچا کھچ بھر گیا۔ شائقین نے ارجنٹائن کے عظیم کھلاڑی کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔

میسی نے میچ کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارجنٹائن کی نیلی اور سفید جرسی پہننا انہیں ابھی سے یاد آنے لگا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ درست محسوس ہوتا ہے، تاہم اپنے ملک کی نمائندگی سے دور ہونا ان کے لیے جذباتی لمحہ ہے۔

ارجنٹائنی اسٹار نے اپنے 21 سالہ بین الاقوامی کیریئر کو ناقابل یقین سفر قرار دیا، جس میں بے شمار خوشیاں بھی شامل رہیں اور کچھ مشکل اور غمگین لمحات بھی آئے۔

میسی نے ارجنٹائن کو 2022 کا فیفا ورلڈ کپ جتوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ وہ 2021 اور 2024 میں کوپا امریکا کا ٹائٹل جیتنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کا بھی حصہ رہے۔ ان کامیابیوں کے بعد میسی نے ارجنٹائن کے لیے وہ بڑے اعزازات حاصل کیے جن کی قومی ٹیم کے ساتھ ان کے کیریئر کے طویل عرصے تک کمی محسوس کی جاتی رہی۔

رونالڈو اور میسی کی رقابت نے عالمی فٹبال کو ایک طویل عرصے تک متاثر کیے رکھا۔ دونوں نے مختلف کلبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے انفرادی اعزازات، گولز اور ریکارڈز کی دوڑ میں ایک دوسرے کا مسلسل مقابلہ کیا اور دنیا بھر میں کروڑوں شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سبسڈی کا خاتمہ، حکومت اور آئی ایم ایف میں کیا طے پایا؟

اگرچہ میدان میں دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے بڑے حریف رہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ رونالڈو اور میسی نے ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کا اعتراف بھی کیا۔ میسی کی بین الاقوامی فٹبال سے رخصتی کے موقع پر رونالڈو کا خراج تحسین اسی باہمی احترام کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

میسی کی قومی ٹیم سے رخصتی کے ساتھ فٹبال کے ایک ایسے دور کا اختتام بھی محسوس کیا جا رہا ہے جس میں ارجنٹائنی اسٹار اور رونالڈو نے تقریباً دو دہائیوں تک کھیل کی عالمی توجہ کا مرکز بن کر اپنی اپنی ٹیموں اور کلبوں کے لیے متعدد تاریخی کامیابیاں حاصل کیں

Qaisar Mirza
editor

Related Articles