سہیل آفریدی نے 4 ارب پاکستان سے باہر منتقل کروائے،فائدے یہ اٹھائیں ،جیل ہم جائیں ،مار ہم کھائیں ، پشتون نوجوان پھٹ پڑے

سہیل آفریدی نے  4 ارب  پاکستان سے باہر منتقل کروائے،فائدے یہ اٹھائیں ،جیل ہم جائیں ،مار ہم کھائیں ، پشتون نوجوان پھٹ پڑے

خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جس کے بعد پشتون نوجوانوں کے مستقبل اور سیاسی سرگرمیوں میں ان کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس معاملے پر سامنے آنے والے ایک پیغام میں نوجوانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ احتجاجی سیاست کا حصہ بننے سے پہلے اپنے مستقبل اور اپنے فیصلوں کے نتائج پر غور کریں۔

نوجوانوں کے مستقبل کا سوال

باڑہ بازار احتجاج میں گرفتار نوجوانوں کے خلاف مقدمات کے اندراج کے بعد گرفتار نوجوانوں کی  ایک ویڈیو کے ذریعے نوجوانوں کو حالات کا جائزہ لینے اور یہ سوچنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ کہیں انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال تو نہیں کیا جا رہا۔

 گرفتار نوجوانوں کی طرف سے پیغام میں کہا گیا ہے کہ پشتون قوم کے نوجوانوں کو جذباتی نعروں اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے، سیاسی اختلافات اور جماعتی مفادات کی لڑائی میں نوجوانوں کی گرفتاریوں اور قانونی مشکلات کو ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

سہیل آفریدی پر سنگین الزامات

پیغام میں سہیل آفریدی، ان کے بھائی اور تین دیگر افراد کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے صرف ایک سال کے دوران چار ارب روپے پاکستان سے باہر منتقل کروائے۔ تاہم مار کھانے کے لیے ہم رہ گئے فائدے یہ اٹھائیں اور ماریں ہم کھائیں۔

 یہ بھی پڑھیں :سہیل آفریدی اور جنید اکبر نے خود گرفتاری دی، اختیار ولی کا دعویٰ

  سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر سیاسی قیادت اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہے تو احتجاجی سیاست میں گرفتاریاں برداشت کرنے اور اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے کی ذمہ داری نوجوانوں پر کیوں آئے؟

پشتون نوجوانوں سے اپیل

پیغام میں پشتون نوجوانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سیاستدانوں کے بیانات اور نعروں سے متاثر ہو کر ایسے اقدامات نہ کریں جن کے نتائج انہیں اور ان کے خاندانوں کو بھگتنا پڑیں۔

 ویڈیو پیغام میں  کہا گیا ہے کہ سیاسی قیادت کے مفادات اور عام نوجوانوں کی قربانیوں کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کو ترجیح دینی چاہیے اور کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے۔

editor

Related Articles