وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر امریکی محکمہ خارجہ کے سفیر یون سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ معاشی تعاون، تجارت، توانائی، اہم معدنیات اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں تجارتی فریم ورک معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ امریکا سے درآمدات بڑھانے کے ذریعے پاکستان کے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر توانائی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے اور ملک میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات زیرِ بحث آئے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی حکام کو ایندھن کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے اور معاشی دباؤ کے دوران کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں اس امر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دے کر پاکستان کی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی ذرائع میں تنوع لانے کے امکانات کو کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
مذاکرات کے دوران انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے اقدامات، یعنی اے ایم ایل/سی ایف ٹی، اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق پیش رفت بھی زیرِ غور آئی۔ اس کے علاوہ امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذریعے مختلف منصوبوں کے لیے مالی معاونت کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔
ملاقات میں پاکستان کے اہم معدنی وسائل، بالخصوص ریکوڈک منصوبے، میں تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیر خزانہ نے منصوبے کی اہمیت، اس کی سلامتی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا۔
پاکستان میں اہم معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے امکانات کو معاشی تعاون کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے اس شعبے میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ریکوڈک منصوبہ معدنی وسائل کے مؤثر استعمال اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
ملاقات میں ہوا بازی کے شعبے میں تعاون کے مختلف پہلو بھی زیرِ بحث آئے، جن میں بوئنگ طیاروں کی خریداری اور ان کے لیے مالی معاونت کے امکانات شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہوا بازی سے متعلق منظوریوں اور دیگر متعلقہ امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں فریقوں نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ضابطہ جاتی نظام اور ترسیلاتِ زر و یورو بانڈز کی ٹوکنائزیشن کے ممکنہ استعمال پر بھی گفتگو کی۔ ان امور کا تعلق مالیاتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نئے مالیاتی طریقوں کے امکانات سے ہے۔
بنکاک میں ہونے والی اس ملاقات میں تجارت، توانائی، معدنیات، مالیاتی تعاون اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔