پی ٹی آئی کی 13 سالہ بیڈ گورننس کا خونی نتیجہ، ایم این اے آصف خان، ایم پی اے فضل الہٰی، اسکول مالک کی کرپشن دلخراش واقعے کی وجہ بن گئی
Home - آزاد انتخاب - پی ٹی آئی کی 13 سالہ بیڈ گورننس کا خونی نتیجہ، ایم این اے آصف خان، ایم پی اے فضل الہٰی، اسکول مالک کی کرپشن دلخراش واقعے کی وجہ بن گئی
خیبر پختونخوا پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی مخدوش عمارت زمین بوس ہونے کے دلخراش سانحے کے پیچھے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے مقامی رہنماؤں کی کھلی کرپشن، سنگین غفلت اور جماعت کی 13 سالہ تباہ کن بیڈ گورننس کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔
ایم این اے آصف خان، ایم پی اے فضل الہی اور اسکول مالک خان محمد کی مجرمانہ ملی بھگت
اس ہولناک المیے کی جڑیں گہرائی تک پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی صفوں میں پیوست نظر آتی ہیں۔ علاقے کے ممبر نیشنل اسمبلی آصف خان، ممبر صوبائی اسمبلی فضل الہی اور اسکول کے مالک خان محمد کی براہِ راست ملی بھگت اور کرپشن اس سانحے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔
یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ اسکول کی عمارت پہلے سے ہی انتہائی خستہ حال اور مخدوش تھی، مگر سیاسی اثر و رسوخ اور مبینہ رشوت ستانی کے بل بوتے پر اس موت کے کنویں کو تعلیمی ادارے کے نام پر چلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔
پرنسپل صفدر خان سمیت اسکول کی پوری انتظامیہ کے تار پی ٹی آئی سے جڑے ہوئے تھے، جنہوں نے ذاتی مفادات اور مالی فائدے کے لیے معصوم بچوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان تینوں افراد اور ان کے سیاسی آقاؤں سے 35 سے زیادہ قیمتی جانوں کا حساب نہیں لیا جائے گا؟ کیا اقتدار کے نشے میں دُھت ان عناصر کی غفلت کو یونہی نظر انداز کر دیا جائے گا؟
پی ٹی آئی کی 13 سالہ بیڈ گورننس، صوبے کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کی داستان
پشاور کا یہ سانحہ دراصل پی ٹی آئی کے پورے 13 سالہ طرزِ حکومت کی اصلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران صوبے کے وزرائے اعلیٰ اور ارکانِ اسمبلی نے عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ پر ایک روپیہ کے ساتھ بھی توجہ نہیں دی، بلکہ لوٹ مار اور کرپشن میں مصروف رہے۔
ساختی ترقی کا نام و نشان مٹا کر تمام تر توانائیاں اور وقت صرف احتجاج، طویل لانگ مارچوں اور وفاق پر چڑھائی کی کوششوں میں ضائع کر دیے گئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ پورا صوبہ بیڈ گورننس، کرپشن اور لاقانونیت کی دلدل میں دھنس گیا۔ کاغذات میں موجود ضابطے اور زمینی حقائق کے درمیان اس قدر وسیع خلیج حاکم وقت کی نااہلی کا پتہ دیتی ہے کہ جہاں نہ نگرانی کا کوئی مؤثر نظام بچا اور نہ ہی عوام کے جان و مال کا کوئی پرسانِ حال رہا۔
غفلت اور کرپشن کے تانے بانے، بچوں کی لاشوں پر سیاست کا مکروہ کھیل
الخیر اسکول کی عمارت کو تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے سے قبل کیا کسی قسم کا تکنیکی معائنہ کیا گیا تھا؟ کیا اس کی چھت انجینیئرنگ کے بنیادی اصولوں پر پوری اترتی تھی؟ اس کا واضح جواب ’نہیں‘ ہے، کیونکہ جہاں کرپشن اصولوں کو نگل جائے، وہاں حفاظتی ضوابط کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی اس بدترین بیڈ گورننس نے صوبے کے عوام کو پہلے ہی دہشتگردی اور پسماندگی کی لپیٹ میں دے رکھا تھا اور اب یہ کرپٹ نظام معصوم بچوں کی جانیں بھی نگل گیا۔
اسکول کے پرنسپل صفدر خان اور اس کے سرپرستوں کے سیاسی تعلقات نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی کو قانون کی پروا نہ ہو اور وہ یوں نسل نو کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہیں۔
شفاف تحقیقات اور کٹہرے میں کڑے سوالات
عوامی مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس سانحے کے ذمہ داروں کو چھپنے کی کوئی جگہ نہ دی جائے۔ ایم این اے آصف خان، ایم پی اے فضل الہی اور اسکول کے مالک خان محمد کے خلاف فوری اور شفاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ بچوں کے خون کے ہر ایک قطرے کا حساب ان تمام عناصر سے لیا جائے جنہوں نے سیاسی پشت پناہی اور کرپشن کے ذریعے اس انسانی المیے کو جنم دیا۔
اگر اب بھی ان مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا، تو یہ نظام مزید کتنے معصوموں کی جانیں لے گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
اس اندوہناک واقعے نے پشاور سمیت پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ پشاور کے رہائشیوں نے اس سانحے کو سابق صوبائی حکومت (پی ٹی آئی) اور ضلعی انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پچاس سال پرانی عمارت میں اسکول قائم تھا اور وہاں مزید ساخت بھی زیرِ تعمیر تھی، لیکن نہ تو گزشتہ حکومت نے اس کی طرف کوئی توجہ دی اور نہ ہی انتظامیہ نے کبھی زحمت گوارا کی کہ عمارت کی مضبوطی یا اس کی سیفٹی کا جائزہ لیتی۔ بغیر کسی چھان بین اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے معصوم بچوں کو خستہ حال عمارت میں بٹھا کر ان کی زندگیوں سے کھیلا گیا۔
بنوں سمیت دیگر شہروں کے شہریوں کا مظاہرہ اور سخت سزاؤں کا مطالبہ
سانحے کی گونج صوبے کے دیگر اضلاع تک جا پہنچی ہے اور بنوں سمیت دیگر شہروں کے شہریوں نے بھی واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے سابقہ حکمرانوں کی بے حسی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ بنوں کے شہریوں کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں کی شہادت محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ نااہلی کی انتہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ محض زبانی جمع خرچ اور تعزیتی بیانات کے بجائے اس واقعے کی اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور خستہ حال عمارت میں اسکول چلانے کی اجازت دینے والے افسران اور مالکان کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔