سہیل آفریدی، ارشد ایوب اور ریاض محسود کے خلاف معصوم بچوں کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

سہیل آفریدی، ارشد ایوب اور ریاض محسود کے خلاف معصوم بچوں کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے سانحے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، سابق وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور سابق کمشنر پشاور ریاض خان محسود کے خلاف معصوم بچوں کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ سانحے نے اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت، ان کے باقاعدہ معائنے اور متعلقہ حکام کی انتظامی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کو اسکولوں میں محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر اسکولوں کی عمارتوں کی بروقت جانچ، خطرناک عمارتوں کی نشاندہی اور ضروری مرمت کے لیے مؤثر نظام موجود ہوتا اور اس پر سنجیدگی سے عمل کیا جاتا تو ایسے حادثات سے بچاؤ کے امکانات پیدا کیے جا سکتے تھے۔

سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، سابق وزیر تعلیم ارشد ایوب خان اور سابق کمشنر پشاور ریاض خان محسود کے دور میں اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات، معائنے کے ریکارڈ، مرمت کے انتظامات اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے طریقۂ کار کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے نگرانی کا نظام کس حد تک مؤثر تھا اور اگر کسی عمارت میں خطرات موجود تھے تو انہیں دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

یہ بھی پڑھیں:اب کسی اسکول کی خطرناک عمارت نظرانداز نہیں ہوگی، صوبہ بھرتعلیمی اداروں کا سروے اور آڈٹ کرانے کا فیصلہ،گورنر کی محکمہ تعلیم اور انتظامیہ کو ہدائت

 سیاسی سرگرمیوں اور حکومتی کارکردگی کے دعوؤں کے ساتھ عوامی تحفظ کی ذمہ داریوں کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ عوام کے مطابق پشاور کا سانحہ محض ایک حادثہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ یہ طے ہونا چاہیے کہ عمارت کی حالت، حفاظتی معائنے اور متعلقہ انتظامی ذمہ داریوں کے حوالے سے کہاں کوتاہی ہوئی۔

عوام نے زور دیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، اسکول کی عمارت سے متعلق تمام ریکارڈ سامنے لایا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ کسی ممکنہ خطرے کی پہلے سے نشاندہی ہوئی تھی یا نہیں۔ اگر تحقیقات میں کسی فرد یا افسر کی غفلت، قانونی ذمہ داری کی خلاف ورزی یا قابلِ دست اندازی جرم ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

معصوم بچوں کی ہلاکتوں کے معاملے پر مقدمہ درج کرنے کے مطالبے کے ساتھ یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اسکولوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکامی پر جواب دہی کس طرح طے ہوگی۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی عہدے یا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حقائق کی بنیاد پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور صوبے بھر کے اسکولوں کی عمارتوں کا حفاظتی معائنہ کرایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles