ضد نہیں چلے گی! وزیراعظم ہاؤس میں ہی ملاقات ہوگی، رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کی شرائط مسترد کردیں

ضد نہیں چلے گی! وزیراعظم ہاؤس میں ہی ملاقات ہوگی، رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کی شرائط مسترد کردیں

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر واضح کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی، جبکہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی واپس لینے کی شرط پر پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔

ایک بیان میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر کو دو خطوط ارسال کیے ہیں اور اب حکومت ان کے جواب کی منتظر ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے سوال کیا کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کب آئیں گے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کے لیے کسی تیسرے مقام کی شرط قابل قبول نہیں۔ وزیراعظم ہاؤس کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ریاست کی ملکیت ہے، اس لیے ملاقات کے مقام کے حوالے سے غیر ضروری اصرار نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی اس نوعیت کی ضد سامنے آتی رہی ہے، لیکن حکومت اس طریقۂ کار کو قبول نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں :تباہی کے تماشائی نہیں بن سکتے! شہباز شریف کا دوٹوک اعلان، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے فیصلے کا دفاع

وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی واپس لینے کو مذاکرات کی شرط بنانے پر پی ٹی آئی سے بات چیت ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے ساتھ تعاون کرے تو مذاکرات کی راہ نکل سکتی ہے۔

حکومت نے اس طرح محمود خان اچکزئی کی جانب سے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کسی تیسرے مقام کے تعین کی شرط بھی مسترد کردی ہے۔ رانا ثناء اللہ کے بیان سے واضح ہے کہ حکومت ملاقات کے مقام اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر اپنی شرائط تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

سیاسی طور پر اس مؤقف کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا معاملہ دونوں جانب کی شرائط سے جڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وزیراعظم کی جانب سے خطوط کے جواب اور ملاقات کے لیے آمادگی کا انتظار ہے، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کے مقام اور صوبے میں ایمرجنسی کے معاملے پر اختلاف برقرار ہے۔

editor

Related Articles